کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 360
اگر خاوند اور بیوی نفقے کی ایک مقدار یا قیمت پر متفق ہو جائیں یا اس کی ادائیگی میں نقد یا زیادہ یا تھوڑے عرصے تک ادھار پر رضا مند ہو جائیں تو جائز ہے کیونکہ یہ خالص ان کا حق ہے۔ اگر ان میں اختلاف پیدا ہو جائے تو روزانہ صبح کے وقت اس دن کا مطلوبہ خرچ دے دیا جائے ۔اور اگر اناج لینے پر متفق ہو جائیں تو یہ بھی جائز ہے۔کیونکہ اس میں تکلف بھی ہوتا ہے اور خرچ بھی آتا ہے، اس لیے اگر عورت اس پر راضی ہو تو قبول کر سکتی ہے۔ خاوند پر لازم ہے کہ ہر سال شروع ہی میں پورے سال کے لیے لباس مہیا کردے۔ اگر کوئی شخص غائب ہو گیا اور اس نے بیوی کے لیے نفقہ وغیرہ کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا یا وہ خود موجود تھا لیکن اس نے بیوی کو نفقہ نہیں دیا تو ایسی حالت میں گزرے ہوئے تمام ایام کا خرچہ دینا اس پر واجب ہے کیونکہ یہ خاوند کی ذمہ داری ہے، وہ امیر ہو یا غریب، لہٰذا ایام بیت جانے کی وجہ سے حق نفقہ ختم نہیں ہو گا۔ شوہر پر بیوی کا نفقہ اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب اس نے خود کو شوہر کے حوالے کردیا۔اگر اس کے پاس نفقہ دینے کی گنجائش نہ ہوتو عورت کو فسخ نکاح کا حق حاصل ہو گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی کو نفقہ نہیں دے سکتا ،فرمایا : " يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ""ان میں تفریق کر دی جائے۔" نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ" " یا تو اچھائی سے روکے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدے۔" اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عورت کو بسانے کے لیے اپنے پاس رکھنا لیکن نفقہ وغیرہ نہ دینا یہ صورت معروف طریقے سے بسانے والی نہیں ہے۔ اگر شوہر امیر ہے لیکن وہ غائب ہو گیا اور وہ بیوی کے لیے کوئی نفقہ چھوڑ کر بھی نہیں گیا اور وہ اس کے مال میں سے وصول کرنے یا اس کے نام سے قرض لینے کی طاقت نہیں رکھتی تو حاکم کی اجازت کے ساتھ بیوی کوفسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوگا۔ اگر اس کے ہاتھ میں شوہر کا مال آجائے تو بقدر ضرورت لے سکتی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ہندرضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " "جس قدر تجھے اور تیری اولاد کو مال کفایت کرے اس قدر مناسب طریق سے لے سکتی ہو۔" واضح رہے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمائی جب سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ اس کا شوہر اسے اور اس کی