کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 351
کسی ایک کاانتخاب کرلے۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"چھوٹے بچے کی پرورش کے لیے ماں موزوں ترین ہے کیونکہ عورتیں چھوٹے بچوں پر زیادہ شفیق،ان کی خوراک کا انتظام کرنے میں اور پرورش کرنے میں زیادہ باصلاحیت ہوتی ہیں اور پیش آمدہ تکالیف پرزیادہ صابر اوربچے کے حق میں زیادہ مہربان ہوتی ہیں،لہذا ماں اس موقع پر زیادہ خبر گیری کرنے،رحمت وشفقت کرنے اور صبر کرنے کی وجہ سے زیادہ لائق ہے،اسی لیے نابالغ بچے کی پرورش کے لیے ماں کومتعین کیا گیا ہے۔" 2۔ اگر کسی وجہ سے بچے کی پرورش میں ماں کاحق ساقط ہوجائے تو یہ حق نانی،پر نانی وغیرہ کو حاصل ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ ماں کے قائم مقام ہیں اور بچے کا خیال دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر طورپر رکھ سکتی ہیں۔ 3۔ ان کے بعد یہ حق بچے کے باپ کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کیونکہ بچے کا اصلی اورنسبی تعلق باپ کے ساتھ ہی ہے،نیز دوسروں کی نسبت وہ قریبی ہے۔بچے کے حق میں وہ شفیق اور مہربان ہے،لہذا اسے دوسروں پر ترجیح دی جائے گی۔ 4۔ اگر باپ کا حق ساقط ہوجائے تو بچے کی دادی،پردادی کوحق پرورش حاصل ہوگا کیونکہ ان کا بچے سے تعلق قریبی عصبہ،یعنی باپ کی وجہ سے ہے۔واضح رہے دادی،پردادی بچے کی دادا،پردادا پرمقدم ہوگی جس طرح بچے کی ماں اس کے باپ سے مقدم ہوتی ہے۔ 5۔ دادی ،پردادی کے بعد یہ حق دادا،پردادا کو حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ باپ کے قائم مقام ہے۔ 6۔ دادا،پردادا نہ ہوتو بچے کی پرورش کا حق دادا کی ماں کو حاصل ہوگا۔جو زیادہ قریبی ہوگی وہ دور والی سے مقدم ہوگی کیونکہ وہ بھی ایک لحاظ سے جننے والیاں ہیں گویا بچہ ان کا ایک جز ہے۔ 7۔ دادا کی ماں کے بعدبچے کی حضانت بچے کی بہنوں کی طرف منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ بچے کے والدین یا کسی ایک سبب سے اس سے تعلق رکھتی ہیں۔اس میں سگی بہن مقدم ہوگی وہ نہ ہوتو مادری(اخیافی) بہن کیونکہ اس کا تعلق ماں کی نسبت سے ہے۔اور ماں،باپ پرمقدم ہے۔اگر وہ نہ ہوتو پدری(علاتی) بہن حقدار ہے۔بعض علماء نے پدری بہن کو مادری بہن پر ترجیح دی ہے کیونکہ اصل ولایت باپ کے لیے ہے اور یہ وراثت میں قوی ترین سبب ہے۔علاوہ ازیں علاتی(پدری) بہن یہاں حقیقی بہن کے قائم مقام ہے۔واللہ اعلم۔