کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 349
دودھ وہ ہوتا ہے جو بچے کی ہڈیوں اور اس کے گوشت کی نشوونما کا موجب بنے جبکہ یہ دودھ ایسا نہیں ہے۔اہل علم کی دوسری رائے یہ ہے کہ اس سے حرمت ورضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔ (12)۔ایک عورت(جس نے بچے کو اپنا دودھ پلایا ہے) کی شہادت سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے بشرطیکہ وہ دین اسلام کے احکام کی پیروکار ہو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’جب عورت سچ بولنے میں معروف ومشہور ہو اور وہ بتائے کہ اس نے فلاں کو پانچ بار دودھ پلایاتھا تو صحیح بات یہی ہے کہ اس کی بات قبول ہوگی اور رضاعت کا حکم ثابت ہوگا۔‘‘ (13)۔اگررضاعت کے ثابت ہونے یا نہ ہونے میں شک ہویا رضاعت کے کامل ہونے میں تردد ہو،یعنی پانچ بار دودھ پیاتھایا کم اور اس کی واضح دلیل بھی نہ ہوتو حرمت ورضاعت ثابت نہ ہوگی کیونکہ دودھ کا نہ پینا اصل امر ہے۔واللہ اعلم۔ حق پرورش کے احکام "حضانت" لغوی معنی"حق پرورش" کے ہیں۔شرعی معنی"بچے یا جو بچے کے حکم میں ہے،کو نقصان دہ امور سے بچانے اور اس کی جسمانی وروحانی مصلحتوں اور فوائد کالحاظ کرتے ہوئے پرورش اور تربیت کرنے" کے ہیں۔ بچہ یاجوشخص بچے کی طرح کم عقل،دیوانہ وغیرہ ہو،اسے پرورش میں لینے میں یہ حکمت ہے کہ ایسے افراداپنی مصلحتوں کاخیال نہیں رکھ سکتے تو لازماً انھیں کسی سرپرست کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی حفاظت ونگرانی کرسکے اور ان کے منافع وفوائد کا لحاظ رکھے،انھیں نقصان دہ امور سے بچائے اور ان کی اچھے انداز میں پرورش اورتربیت کرسکے۔ (1)۔ہماری شریعت ،شریعت اسلامیہ نے ایسے لوگوں کی تربیت وپرورش کے اصول وضوابط بیان فرمائے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنی صورت احوال کے پیش نظر شفقت ورحمت کے نہایت مستحق ہیں اوراس لائق ہیں کہ ان کےساتھ احسان اور بھلائی کی جائے۔اگر انھیں نظر انداز کردیا جائے گا توان کا نقصان ہوگا بلکہ وہ ضائع ہوجائیں گے ہماراد ین انھیں ضائع کرنے سے روکتا ہے،ان کی کفالت کا ہمیں ذمے دارٹھہراتا ہے اور یہ پرورش پانا زیر کفالت بچے کا حق