کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 341
’’ام ولد کی عدت دو حیض ہے، اگر اسے حیض آنا شروع نہیں ہوا تو اس کی عدت دو ماہ ہے۔‘‘ کیونکہ اس صورت میں "مہینہ "حیض کابدل قرار پائے گا۔ بعض علماء ایسی عورت کی ڈیڑھ ماہ کی عدت کے قائل ہیں کیونکہ لونڈی کی عدت آزاد عورت کی نسبت نصف ہے۔ تو جب آزاد عورت، جسے حیض نہیں آتا ،کی عدت تین ماہ ہے تو لونڈی کی عدت لازماً ڈیڑھ ماہ ہوگی۔ ایسی مطلقہ عورت جسے پہلے حیض آتا رہا ،پھر کسی عارضہ کی وجہ( نہ کہ بڑھاپے کی وجہ) سے رک گیا تو ایسی عورت کی دو حالتیں ہوں گی: 1۔ اسے حیض کے رک جانے کا سبب معلوم نہ ہو۔ ایسی عورت کی عدت طلاق ایک سال ہے۔ اس میں نو ماہ حمل کے لیے تین ماہ طلاق کی عدت کے ہوں گے جو حیض سے مایوس عورت کی عدت ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"یہ فیصلہ (کہ مذکورہ عورت کی عدت ایک سال ہے)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تھا جو انصارو مہاجرین میں جاری و ساری تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق کسی انکار کرنے والے نے اس کا انکار نہیں کیا۔ یاد رہے ایک سال کی عدت میں غرض یہ ہے کہ عورت کے رحم میں حمل کی صورت حال واضح ہو جائے، لہٰذا جب نو ماہ گزر جائیں حمل کے بارے میں کوئی اشکال باقی نہ رہے گا۔ اگر حمل نہ ہواتو تین ماہ عدت گزارے جو حیض سے مایوس عورت کی عدت ہے۔ اس طرح اس عورت کی مجموعی عدت ایک سال ہو گی۔" 2۔ عورت کو حیض رک جانے کا سبب معلوم ہو،مثلاً: بیماری یا رضاعت یا ایسی ادویات کا استعمال جو مانع حیض ہیں۔ ایسی عورت اولاً رکاوٹ حیض کے سبب کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔ سبب زائل ہوجانے کے بعد حیض آجائے تو تین حیض عدت پوری کرے۔ اگر سبب زائل ہو جانے کے باوجود حیض آنا شروع نہیں ہوا تو صحیح بات یہی ہے کہ وہ اس عورت کی طرح ایک سال کی عدت پوری کرے جس کا حیض کسی ایسی وجہ سے رک گیا ہے جس کا اسے علم نہیں جیسا کہ ابھی ذکر ہوا ہے۔ شیخ الا سلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی موقف کو پسند کیا ہے ،نیز امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔ مستحاضہ عورت کی درج ذیل تین صورتیں ہیں: