کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 34
ابوداود رحمۃ اللہ علیہ نے یوں روایت بیان کی ہے: "أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ میں جہاں سے سامان خریدا ہے وہیں پر سامان بیچنے سے منع فرمایا ہے،یہاں تک کہ تاجراپنا سودا اپنے اپنے گھروں میں اٹھا کر لے جائیں۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد رشید ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"خریدی ہوئی شے کو قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنے کی نہی کی وجہ غالباً یہ معلوم ہوتی ہے کہ مشتری اس شے کو قبضے میں لینے سے عاجز اوربے بس ہے ۔ہوسکتا ہے بائع فروخت شدہ شے اس کے حوالے کرے اور ہوسکتا ہے نہ کرے۔خاص طور پر جب وہ دیکھ رہا ہو کہ خریدار کو خوب نفع حاصل ہورہا ہے تو بائع بیع کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا،خواہ انکار کرے یا فسخ بیع کے لیے کوئی حیلہ کرے ۔اس کی تائید اس مسئلہ سے بھی ہوتی ہے کہ آدمی جس چیز کے نقصان کا ذمہ دار نہ ہو اس کا نفع بھی نہیں لے سکتا۔" چنانچہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس امر کی پابندی کرے کہ جب وہ کوئی شے خریدے تو اس وقت تک اسے فروخت نہ کرے جب تک مکمل طور پر اس پر قبضہ حاصل نہ کرلے۔ بہت سے لوگ اس مسئلے میں سستی کرجاتے ہیں یا انھیں اس مسئلے کا علم نہیں ہوتا کہ عموماً لوگ سامان خریدتے ہیں اور اس کا مکمل قبضہ لیے بغیر آگے فروخت کردیتے ہیں،مثلاً:جہاں سامان خریدا وہیں بوریوں،پیکٹوں یا ڈبوں کی گنتی کرلی،پھر گئے اور کسی کے ہاں اسے فروخت کردیا،حالانکہ اس کا صحیح طور پر قبضہ ہوا ہی نہیں تھا،جس کی وجہ سے مشتری کے لیے اسے فروخت کرناجائز نہ تھا۔ اگر آپ کہیں کہ صحیح قبضہ لینے کی وہ کون سی صورت ہے جس میں مشتری کے لیے خریدی ہوئی اشیاء میں تصرف کرنا جائز ہے؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر چیز کے قبضے کی صورت اس کی نوعیت کے مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف ہے ،لہذا قبضے کے لیے مناسب صورت کو اختیار کیا جائے گا۔اگر وہ چیز گنتی والی ہے تو اس پر قبضہ گنتی سے ہوگا اور اگر وہ ناپ وپیمائش والی ہے تواس پر قبضہ ناپ وپیمائش کرنے سے ہوگا۔علاوہ ازیں مشتری اسے اپنی جگہ میں منتقل اور محفوظ بھی کرے گا۔اگر وہ کپڑے ،جانور یا گاڑیاں ہیں تو مشتری انھیں اپنے ہاں منتقل کرے گا۔اگرفروخت شدہ