کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 339
ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ عورت کا زینت اور رنگ و خوشبو کے استعمال سے اپنی حرص اور خواہش کا اظہار کرنے اور اس کی زینت و خوشبو کو دیکھ کر مردوں کا اس میں دلچسپی ظاہر کرنے کا سد باب بھی ہے۔ عورت پر واجب ہے کہ عدت سوگ میں زیب و زینت اختیار کر نے سے اجتناب کرے ،اپنے بال خضاب سے نہ رنگے ۔زینت پیدا کرنے والے رنگوں کو استعمال نہ کرے ،مختلف ڈیزائنوں کا زیورنہ پہنے اور ہرقسم کی خوشبو کے استعمال سے خود کو دور رکھے ،شوخ لباس نہ پہنے بلکہ ایسا سادہ لباس پہنے جو زینت کا باعث نہ ہو۔ ان تمام باتوں کاتب تک خیال رکھے جب تک عدت وفات بیت نہ جائے۔ 5۔ عدت وفات کے لیے شریعت نے کوئی ایسا ایک لباس متعین اور مخصوص نہیں کیا۔ وہ حسب عادت اور عام معمول کا لباس پہنے ،البتہ وہ زینت کا لباس نہ ہو۔ 6۔ جب اس کی عدت وفات مکمل ہو جائے تو اس موقع پر کوئی مخصوص کام کرنا یا خاص الفاظ ادا کر کے عدت ختم کرنا شرعاً ثابت نہیں اگرچہ بعض لوگ ایسی باتیں کہتے ہیں۔ جس عورت کو حیض نہیں آتا وہ تین ماہ طلاق کی عدت پوری کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ" ’’تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے ۔‘‘ مطلقہ عورت جسے حیض آتا ہو وہ تین حیض کی عدت گزارے بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ " ’’طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔انھیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو، اسے چھپائیں۔‘‘  واضح رہے آیت کلمہ "قُرُوءٍ"کے معنی"حیض "کے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمر ،علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا یہی مسلک ہے۔ علاوہ ازیں حدیث میں بھی "قَرْؤُ"کا لفظ حیض کے معنی میں آیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ عورت کو فرمایا: "إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي " "جب تجھے حیض آئے تو نماز ادا نہ کرنا ۔"