کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 337
واضح رہے عدت وفات سے مقصود استبرائے رحم نہیں اور نہ یہ محض تعبدی حکم ہے کیونکہ شریعت کے ہر حکم میں جو معنی اور حکمت پنہاں ہیں وہ بعض پر آشکار اہو جاتے ہیں اور دوسروں پر مخفی رہتے ہیں۔" علامہ وزیر اور دیگر فقہاء رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں :"علمائے کرام اس امر پر متفق ہیں کہ جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے وہ چار ماہ دس دن تک عدت گزارے بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو۔" لونڈی کا آقا یا شوہر فوت ہو جائے تو اس کی عدت آزاد عورت کی نسبت نصف ایام ہیں، یعنی دو ماہ اور پانچ دن۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس امر پر اجماع تھا کہ لونڈی کی عدت طلاق اور عدت وفات آزاد عورت کی نسبت نصف ہے۔ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" یہی قول عام اہل علم کا ہے۔ ان میں امام مالک ،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر فقہاء بھی شامل ہیں ،نیز اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع تھا۔" عدت وفات سے متعلق چند مخصوص احکام مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ عورت عدت وفات اس گھر میں گزارے جہاں وہ اپنے خاوند کی وفات کے وقت رہ رہی تھی، بغیر کسی شرعی عذر کے اس جگہ کو چھوڑنا جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو فرمایا تھا:"تم اس گھر میں عدت گزارو جہاں تمھیں تمہارے خاوند کی موت کی خبر دی گئی تھی۔" 2۔ اگر عورت عدت وفات گزارنے کے لیے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ جانے پر مجبور ہوتو حسب خواہش جہاں چاہے عدت گزارے تاکہ اسے تکلیف یا نقصان نہ ہو ،مثلاً:جہاں خاوند فوت ہوا تھا اس گھر میں رہنے سے اس کی جان کو خوف و خطرہ لاحق ہویا اسے وہاں سے زبردستی نکال دیا جائے یا مالک مکان کی طرف سے کرایہ بڑھ جانے کی وجہ سے اس عورت نے مکان چھوڑدیا وغیرہ۔ 3۔ اسی طرح خاوند کی وفات پر عدت گزارنے والی عورت دن کے وقت کسی ضروری کام کے لیے گھر سے باہر جاسکتی ہے، رات کو نہیں کیونکہ رات کو جانے میں خرابی و فساد کا اندیشہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " تَحَدَّثْنَ عِنْدَ إِحْدَاكُنَّ مَا بَدَا لَكِنَّ، فَإِذَا أَرَدْتُنَّ النَّوْمَ فَلْتَأْتِ كُلُّ امْرَأَةٍ إِلَى بَيْتِهَا"