کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 332
کے ساتھ قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ نسب کا معاملہ ہے جو نہایت اہم ہے۔ جب کسی مولود کے ملانے میں اشکال ہو تو صاحب فراش کو مقدم کیا جائے گا۔ مثلاً:لونڈی کے بچے کے بارے میں مالک کہتا ہے: یہ بچہ میرا ہے۔ ایک اور آدمی دعوی کرتا ہے کہ میں نے اس سے شبہے کی بنا وطی کی تھی، لہٰذا اس سے پیدا ہونے والا بچہ میرا ہے۔ تو اس صورت میں بچہ مالک کا ہوگا کیونکہ حدیث میں ہے: "الْوَلَدُ لِلفِراشِ " ’’بچہ اسی کا ہے جس کا بستر(لونڈی) ہے۔‘‘ بچہ نسب میں باپ کے تابع ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ" ’’لے پالکوں کو ان کے(حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ۔‘‘  دینی اعتبار سے بچہ ماں باپ میں سے جو دین کے اعتبار سے بہتر ہے اس کے تابع ہو گا، مثلاً:اگر کسی نصرانی نے بت پرست عورت سے شادی کی یا اس کے برعکس ہوا تو بچہ نصرانی مذہب رکھنے والے کے تابع ہو گا۔ آزادی اور غلامی میں بچہ ماں کے تابع ہو گا الایہ کہ آزاد کرنے والا شرط لگا دے اسی طرح کسی دھوکے کی صورت میں بھی وہ ماں کے تابع نہیں ہو گا۔ حسب و نسب کے ان احکام کو دین اسلام اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ انساب کی حفاظت رہے کیونکہ اس میں بہت سی مصلحتیں کار فرماہیں،مثلاً:صلہ رحمی، وراثت اور سر پرستی وغیرہ احکام۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ" "اے لوگو! بلاشبہ ہم نے تم سب کو ایک (ہی)مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو ۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے، یقین مانو کہ اللہ دانا اور خوب باخبر ہے۔" الغرض حسب و نسب کی معرفت کا مقصد تفاخر اور جاہلیت کی حمیت نہیں بلکہ اس کا مقصد باہمی تعاون، صلہ رحمی اور ایک دوسرے پر رحمت و شفقت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو اسے محبوب اور پسندیدہ ہوں۔(آمین)