کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 329
جائے؟تو انھوں نے فرمایا : سبحان اللہ! کیوں نہیں ،پھر انھوں نے کہا کہ فلاں بن فلاں (صحابی )نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی مرد کے ساتھ زنا کی حالت میں دیکھے تو کیا کرے؟اگر وہ اس کے بارے میں (گواہوں کے بغیر) زبان سے کچھ کہتا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے اور اگر چپ رہتا ہے تو اتنی بڑی بات پر خاموشی برداشت نہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک وقت کے بعد وہی شخص پھر آگیا اور کہا: میں نے آپ سے جو سوال کیا تھا اب خود مجھے اس سے واسطہ پڑ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی آیات: "وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ .....إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ " ’’جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں ۔۔۔۔۔اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو۔‘‘ نازل فرمادیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سنائیں اور اسے وعظ و نصیحت کی اور کہا کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزا کے مقابلے میں بہت معمولی ہے۔اس شخص نے کہا:اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا ہے میں اپنی بیوی کے بارے میں جھوٹ نہیں بول رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو بلوایا ،اسے وعظ ونصیحت کی اور کہا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکا ہے۔ اس عورت نے کہا:اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا ہے! یہ شخص میرے بارے میں جھوٹ سے کام لے رہا ہے، چنانچہ پہلے مرد نے چار قسمیں اٹھائیں کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی چار قسمیں اٹھائیں اور کہا کہ میراخاوند جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کا(مجھ پر) غضب نازل ہو اگر میرا خاوند سچا ہو۔ اس عمل کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند اور بیوی کے درمیان تفریق ڈال دی۔‘‘ نسب کے اثبات کا بیان جس کسی شخص کی بیوی یا لونڈی نے بچہ جنا اور یہ ممکن ہو کہ بچہ اسی کا ہے تو بچے کا نسب اس شخص کے ساتھ جوڑا جائے گا جس کی وہ بیوی یا لونڈی ہے۔ یہ ایسے ہی ہو گا جیسے اس نے بچے کو اس کے بستر پر جنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: " الْوَلَدُ لِلفِراشِ "’’ بچہ اسی کا ہے جس کا بستر ہے۔‘‘ یعنی جس کی بیوی یا لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔