کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 328
جب درج بالا صورت اور شرائط کے ساتھ لعان کا عمل مکمل ہو جائے تو اس پر یہ احکام مرتب ہوں گے: 1۔ خاوند پر الزام تراشی کی حد نہیں لگے گی۔ 2۔ خاوند اور بیوی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں گے، یعنی ان کے لیے باہم ازدواجی تعلقات قائم رکھنے حرام ہو جائیں گے۔ 3۔ اگر مرد نے لعان کے دوران میں عورت کے بچے کو اپنا ماننے سے انکار کر دیا تووہ بچہ اس مرد کی طرح منسوب نہ ہو گا۔ خاوند لعان کا عمل تب اختیار کرے گا جب وہ اپنی بیوی کو زنا کا مرتکب پائے لیکن اس کے پاس دلیل و شہادت نہ ہو جو عدالت میں پیش کر سکے یا اس کے پاس قوی قرائن و شواہد موجود ہوں جو عورت کے زانیہ ہونے کو ظاہر کرتے ہوں ،مثلاً:اس نے کسی بدکار مرد کو اپنی بیوی کے پاس آتے جاتے دیکھا ہو۔ لعان کا عمل اختیار کرنے میں یہ حکمت ہے کہ زانیہ بیوی کو اپنے ہاں رکھنا خاوند کے لیے باعث عارہے اور غیر کے بچے کا نسب اس کے ساتھ ملنے کا خطرہ ہے، نیز اسے بیوی کے برا ہونے پر یقین ہے اگرچہ اس پر دلیل یا شہادت پیش نہیں کر سکتا اور وہ خود اپنے جرم کا اعتراف نہیں کر رہی بلکہ اپنے خاوند کو جھوٹا ثابت کر رہی ہے، لہٰذا اب سخت قسموں کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تو شریعت نے اس موقع پر "لعان" کی صورت پیش کی ہے جو اس مشکل کا حل ہے اور خاوند کی الجھن کی سلجھن ہے۔ جب شوہر کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی گواہ نہ ہو تو عورت کو یہ موقع دیا جائے گا کہ اپنے شوہر کی قسموں کے جواب میں قسمیں کھا کر اس الزام کے سچ ہونے سےانکار کرے۔ جس کے نیتجے میں اس سے حد ساقط ہو جائے گی ۔ اگر خاوند قسمیں کھانے سے انکارکرے تو اسے قذف (الزام تراشی) کی سزا(80 کوڑے) دی جائے گی ۔ اگر مرد کے قسم کھانے کے بعد عورت نے قسمیں کھانے سے انکار کر دیا تو مرد کی قسمیں اور عورت کا انکار اس بات کی قوی دلیل ہے کہ اس سے جرم سر زد ہوا ہے۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’دلائل سے یہی بات ثابت ہوتی ہے اور امام احمد ،شافعی اور مالک رحمۃ اللہ علیہم نے بھی فرما یا ہےکہ اگر عورت قسمیں کھانے سے انکار کر دے تو اس پر زنا کی حد جاری کی جائے گی۔ یہی قول صحیح ہےجس کی تائید قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے۔‘‘ لعان کی مشروعیت کی دلیل سنت رسول میں سے وہ واقعہ ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب ان سے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ’’ کیا لعان کے بعد خاوند اور بیوی کے درمیان تفریق پیدا کر دی