کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 32
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو خبردار کیاہے کہ خریدوفروخت میں سچ بولنا برکت کے اسباب میں سے ہے اور جھوٹ بول کر خریدوفروخت کرنا برکت کوختم کردیتا ہے۔سچ بول کرلیے ہوئے تھوڑے منافع میں بھی اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیتا ہے اور جھوٹ کے ساتھ حاصل کیا ہوا زیادہ منافع بھی بے برکت ہوجاتا ہے۔ عیب کی وجہ سے اختیار:مشتری کو بیع واپس کرنےکا تب اختیار ہے جب خریدی ہوئی چیز میں عیب ہو اور بائع اس کی خبر نہ دے یا خود بائع کو اس کا علم نہ ہو لیکن واضح ہوجائے کہ یہ چیز بیع کرنے سے پہلے ہی عیب دار تھی۔وہ عیب جس کی بنا پر مشتری کو اختیار حاصل ہوتا ہے وہ ہے کہ اس کی وجہ سے مبیع کی قیمت کم ہوجاتی ہو یا اس کی ذات میں کمی آتی ہو۔اور اس کافیصلہ معتبر تجار ہی کریں گے ،وہ جس کو عیب قراردیں اس میں اختیار ثابت ہوگا اور جسے وہ عیب شمار نہ کریں اس میں اختیار نہیں ہوگا۔اگر مشتری کوعقد کے بعد عیب کاعلم ہواتو اسے اختیار ہے کہ بیع کو قائم رکھے یا اس کی جائز قیمت اور ادا شدہ قیمت کا فرق وصول کرے۔اور اسے یہ حق بھی حاصل ہے کہ بیع فسخ کرکے چیز لوٹادے اور اداشدہ قیمت واپس لے لے۔ قیمت بتانے میں جھوٹ بولنا:بائع شے فروخت کرتے وقت دعویٰ کرے کہ وہ مشتری سے محض قیمت خرید وصول کررہا ہے،پھر بعدمیں اس کی بات خلاف حقیقت ثابت ہو یا بائع نے کہا کہ میں تجھے اس سامان میں راس المال کے ذریعے سے شریک کررہا ہوں یاکہا کہ میں نے یہ مال راس المال پر اتنے فی صد نفع پر فروخت کردیا یا کہا کہ میں نے یہ چیز قیمت خرید سے اتنی رقم کم کرکے دی ہے۔اگر ان مذکورہ صورتوں میں واضح ہوا کہ اس نے راس المال بتاتے وقت جھوٹ سے کام لیا ہے تو(ایک قول کے مطابق) مشتری کو اختیار ہے کہ بیع قائم رکھے یااسے لوٹا دے۔اہل علم کااس میں دوسرا قول یہ ہے کہ ان صورتوں میں مشتری کو اختیار حاصل نہ ہوگا۔مشتری اصل قیمت ادا کرے گا اور زائد قیمت ساقط ہوجائے گی۔واللہ اعلم۔ اختیار بصورت اختلاف:بیع کے بعد اگر بائع اور مشتری کا بعض امور میں اختلاف پیدا ہوگیا تو بیع فسخ ہوجائے گی،مثلاً:مقدار قیمت میں اختلاف واقع ہو یا چیز کی نوعیت میں اختلاف ہوجائے اور کسی کے پاس فیصلہ کن دلیل بھی نہ ہوتو دونوں اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے حلف اٹھائیں گے۔حلف کے بعد دونوں میں سے ہر ایک کو فسخ کا حق حاصل ہوگا جبکہ کوئی بھی دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہ ہو۔ تبدیلیٔ حالت میں اختیار:مشتری نے ایک ایسی شے کی بیع کی جسے اس نے وقت بیع سے بہت پہلے دیکھا تھا۔جب اس نے بیع کے بعد اسے وصول کیا تو دیکھا اس کی حالت تبدیل ہوچکی ہے تومشتری کو اختیار ہے کہ بیع فسخ قراردے یا اسے قائم رکھے۔واللہ اعلم۔