کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 319
"جو لوگ اپنی بیویوں سے(تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں ان کے لیے چار مہینے کی مدت ہے، پھر اگر وہ لوٹ آئیں تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق ہی کا قصد کر لیں تو اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔" اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ترک مجامعت پر قسم اٹھاتے ہیں ان کے لیے چارماہ کی مہلت ہے۔ اگر وہ اس مدت تک اپنی بیویوں سے مجامعت کرلیں اور اپنی قسموں کا کفارہ ادا کر دیں تو ٹھیک ہے اور اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرنے والا ہے اور اگر چار ماہ کی مدت گزر جائےاور وہ اپنی بیویوں سے ترک مجامعت پر بضدرہیں تو انھیں کسی پنچایت میں کھڑا کیا جائے اور بیویوں سے تعلقات بحال کرنے پر اور قسم کا کفارہ دینے پر آمادہ کیا جائے۔" اگر وہ انکار کردیں تو عورت کے مطالبے پر انھیں طلاق دینے کا کہا جائے گا۔ اس آیت میں اس جاہلی قانون کا ابطال وارد ہے جس کے تحت شوہر بیوی کو تکلیف دینے کی خاطر ایک طویل عرصہ ایلاء کے ذریعے سے ازدواجی تعلقات منقطع کرلیتا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف پر مبنی شریعت اسلامیہ میں عورت کو نقصان و ظلم سے بچا لیا۔ اسلام میں (چار ماہ سے زیادہ )ایلاء حرام ہے کیونکہ اس کے ذریعے سے واجب کا ترک لازم آتا ہے۔ ایلاء ہر اس شوہر کی طرف سے منعقد ہو جاتا ہے جس کا طلاق دینا درست ہو۔ وہ مسلمان ہو یا کافر، آزاد ہو یا غلام، بالغ ہو یا کوئی سمجھ بوجھ رکھنے والا نا بالغ، البتہ اس سے بعد از بلوغت بحالی تعلقات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اسی طرح ایلاء کرنے والا حالت غصہ میں ہو یا ایسا مریض جسے شفا پانے کی امید ہے۔ حتی کہ ایلاء کا اطلاق اس عورت پر بھی ہو گا جس سے وطی نہیں کی گئی کیونکہ آیت کریمہ کے الفاظ میں عموم ہے۔ خاوند دیوانہ ہو یا بے ہوش اس حالت میں ایلاء کا حکم نافذ نہیں ہوتا کیونکہ اس کو اپنی باتوں کی سمجھ نہیں ہوتی اور اس کے لیے نیت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اگر شوہر جماع کرنے سے عاجز ہے، مثلاً: نامرد ہو یا اس کا عضو مخصوص کٹا ہوا ہو تو ایلاء منعقد نہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں اس کا وطی نہ کرنا قسم کی وجہ سے نہیں ہے۔ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ"اللہ تعالیٰ کی قسم! میں تجھ سے کبھی مجامعت نہ کروں گا یا چار ماہ سے زیادہ مدت