کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 318
منشا لونڈیاں رکھنے کی اجازت دی، طلاق کا حق مرد کے پاس رکھا۔اگر وہ دوبارہ اس کی طرف میلان محسوس کرے تو رجوع کی گنجائش رکھی۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد عورت سے دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنا ممکن نہیں سوائے اس صورت کے کہ کوئی دوسرا مرد اس عورت سے اپنی رضا و رغبت کے ساتھ نکاح کرے۔ یعنی یہ ضروری ہے کہ دوسرا آدمی واقعی رغبت کی بنا پر نکاح کرے۔اس غرض سے نکاح کا حیلہ اختیار نہ کرے۔ کہ طلاق دے کر پہلے مرد سے اس کا نکاح جائز کر دے۔ حیلے کے طور پر نکاح کرنے والے کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے"عاریتاً لیا ہواسانڈ"قراردیا ہے، لہٰذا اس کا اس نیت سے کیا ہوا نکاح کالعدم ہے اور اس کے ساتھ عورت پہلے مرد کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔ ایلاء کے احکام ایلاء کے لغوی معنی ہیں" قسم اٹھانا " جبکہ شرعی معنی ہیں:" کوئی شخص قسم اٹھالے کہ وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہیں کرے گا۔" فقہائے کرام نے ایلاء کی تعریف یوں کی ہے: "وطی کے قابل شوہر اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفت کی قسم اٹھائے کہ وہ ہمیشہ کے لیے یا چارماہ سے زیادہ عرصے تک اپنی بیوی سے قبل (شرمگاہ)کے راستے مجامعت نہیں کرے گا۔" اس تعریف سے واضح ہوا کہ صحت ایلاء کے لیے ضروری ہے کہ اس میں درج ذیل پانچ شرائط موجود ہوں: 1۔ ایلاء کرنے والا ایسا شخص ہو جو وطی کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ 2۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کی قسم ایلاء کے لیے اٹھائے طلاق، آزادی یا نذر مقصد نہ ہو۔ 3۔ وہ قسم اٹھائے کہ بیوی سے قبل کے راستے جماع نہیں کرے گا۔ 4۔ وہ ترک جماع میں چار ماہ سے زائد عرصے کی قسم اٹھائے۔ 5۔ بیوی ایسی حالت میں ہو کہ اس سے وطی کرنا ممکن ہو۔ جب یہ پانچ شرائط مکمل ہوں گی تو وہ شرعاً "ایلاء" کرنے والا قرارپائے گا، یعنی اس پر ایلاء کے احکام جاری ہوں گے۔ اگر ایک شرط بھی مقصود ہو تو اس کا ایلاء معتبر نہ ہو گا۔ ایلاء کی دلیل میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ () وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ"