کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 317
کرسکتے ہیں حتی کہ خاوند اس سے وطی بھی کر سکتا ہے۔(البتہ وطی کرنے کی صورت میں رجوع سمجھا جائے گا۔) عدت ختم ہو جائے تو رجوع کا اختیار بھی ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا جب وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے گی تو اب رجوع نہیں ہو سکے گا۔ البتہ اگر وہ تعلقات کی بحالی کے خواہش مند ہوں تو ولی اور دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح جدید ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: "وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ" ’’ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کےزیادہ حقدار ہیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ عدت کے دوران میں خاوند رجوع کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر وہ عدت سے فارغ ہو جائے تو خاوند کے لیے رجوع کرنا مباح نہیں الایہ کہ عقد جدید منعقد ہو۔ اگر شوہر دوران عدت شرعی طریقے سے رجوع کر لے تو اس کے بعد اسے باقی طلاقیں دینے کا اختیار ہے ،یعنی جس طلاق کے بعد رجوع کیا ہے وہ شمار ہو گی۔ اگر خاوند مکمل تین طلاقیں دے چکا ہے تو اب دونوں کے ازدواجی تعلقات قائم کرنے حرام ہیں الایہ کہ کوئی دوسرا شخص اس سے صحیح شرعی نکاح کرے(جو صرف حلالہ کے لیے نہ ہو)اور اس سے فطری راستے میں مجامعت کرے اور طلاق دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّٰهِ " " پھر اگر اس کو طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے علاوہ دوسرے سے نکاح نہ کرے۔پھر اگر وہ( دوسرا خاوند)بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔" علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"دوسرے خاوند کے نکاح کرنے اور پھر وطی کر کے طلاق دینے کے بعد پہلے شوہر کے لیے اس کا حلال ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم احسان ہے۔ تورات کی شریعت کی روشنی میں پہلے شوہر کے پاس آنے کے لیے بیوی کا دوسرے آدمی سے شادی کرنا(پھر اس کا طلاق دینا) ہی کافی تھا وطی کی شرط نہ تھی اور انجیل کی شریعت میں طلاق سے مطلقاًروک دیا گیا ہے۔ ہماری شریعت اسلامیہ کامل شریعت ہے جس میں بندوں کی مصلحتوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی،حسب