کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 315
غلام دو سے کم طلاقیں دے تو انھیں دوران عدت میں رجوع کا حق حاصل ہے۔" خاوند کو رجوع کے لیے فرصت دینے میں یہ حکمت ہے کہ اگر وہ طلاق دینے کے بعد شرمندہ ہے اور بیوی کو از سر نو آباد کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنے آگے بحالی ٔ تعلقات کا دروازہ کھلا پائے اور رجوع کر کے اپنا گھر پھر سے آباد کر لے۔ یہ سراسر رحمت باری تعالیٰ کا ایک حصہ ہے۔ رجوع کے درست ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں: 1۔ طلاقوں کی تعداد اس سے کم ہو جتنی طلاقیں دینے کا اسے اختیار ہے ،یعنی آزاد شخص نے تین طلاقوں سے کم طلاقیں دی ہوں۔اور اگر وہ غلام ہے تو اس نے دو طلاقوں سے کم دی ہوں۔ اگر آزاد نے بیوی کو تین اور غلام نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو ان کا حق رجوع ختم ہو گیا۔ پھر اس وقت تک بیوی کو نکاح میں لانا جائز نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہ ہو۔ 2۔ مطلقہ عورت مدخولہ ہو۔ اگر قبل از دخول اسے طلاق دی گئی ہو تو اس کے لیے حق رجوع نہیں ہے کیونکہ اس میں عورت پر عدت نہیں۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا " "اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو،پھر تم انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارے لیے کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو۔" 3۔ طلاق بلا معاوضہ ہو۔ اگر بیوی نے معاوضہ دے کر طلاق حاصل کی ہو تو خاوند کے لیے وہ حلال نہ ہو گی جب تک خاوند اس سے اس کی رضامندی سے دوبارہ نکاح نہ کرے کیونکہ اس عورت نے خاوند سے آزاد ہونے کے لیے فدیہ یا معاوضہ دیا ہے، لہٰذا خاوند کو رجوع کا اختیار دینے سے عورت کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ 4۔ نکاح صحیح طریقے سے ہوا ہو۔ اگر غیر شرعی نکاح کے بعد طلاق دی تو رجوع کا حق نہ ہوگا کیونکہ اس کے لیے یہ طلاق بائن ہوتی ہے۔ 5۔ رجوع عدت کے اندراندر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ" "ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔"