کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 312
کہ اوپر مثال میں بیان ہو چکا ہے۔ اگر مستثنیٰ ، مستثنیٰ منہ کے نصف سے زائد ہو تو جملہ مؤثر نہ ہو گا ،مثلاً: کوئی کہے:’’تمھیں تین طلاقیں مگر دو کم ۔‘‘ استثنا کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ وہ دل میں نہ ہو بلکہ الفاظ کی صورت میں ذکر ہو، لہٰذا اگر کسی نے کہا:’’تمھیں تین طلاقیں اور دل میں کہا مگر ایک‘‘تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہی ہوں گی۔یہاں دل کی نیت کا اعتبار کرتے ہوئے الفاظ کا حکم ساقط نہ ہو گا کیونکہ الفاظ کا اعتبار دل کی نیت سے قوی ترہے۔البتہ نیت کے ذریعے سے عورتوں کا استثنا جائز ہے۔ اگر کسی نے کہا:"میری بیویاں طلاق والی ہیں۔"اور دل میں ایک بیوی کو مستثنیٰ کر لیا تو درست ہے، لہذا جسے دل میں مستثنیٰ کیا اسے طلاق نہ ہو گی کیونکہ بیویوں کا اطلاق سب پر بھی ہوتا ہے اور بعض پر بھی ۔لہٰذا نیت کا اعتبار ہو گا۔ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کرنا جائز ہے، مثلاً: کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے:" اگر تو فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق:"لہٰذا جب وہ مقرر ہ گھر میں داخل ہوگی تو وہ مطلقہ ہو جائے گی۔ طلاق میں مرد کی شرط تب معتبر ہوگی جب اس کی حیثیت خاوند کی ہو۔اگر اس نے کہا:’’ اگر میں فلاں عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ۔‘‘ پھر اس نے اس سے شادی کر لی تو طلاق واقع نہ ہو گی کیونکہ شرط لگاتے وقت وہ شخص اس کا خاوند نہ تھا۔ حدیث میں ہے: "لاَ نَذْرَ لاِبْنِ آدَمَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَلاَ عِتْقَ لَهُ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَلاَ طَلاَقَ لَهُ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ" ’’ابن آدم کے لیے اس امر میں نذر درست نہ ہو گی جس کا وہ مالک نہیں نہ اس کی آزا دی ہوگی جس کا وہ مالک نہیں اور نہ اسے طلاق ہی ہوگی جس کا وہ مالک نہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ " "اے مومنو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ پھر تم انھیں طلاق دے دو۔" آیت اور حدیث وضاحت کرتی ہیں کہ اجنبی عورت کو طلاق نہیں ہوتی جب وہ غیر مشروط طور پر کہی جائے، اس پر علماء کا اجماع ہے ۔اگراجنبی عورت کے لیے مشروط طور پر طلاق کا لفظ بولا جائے تو اکثر کے نزدیک یہ طلاق بھی