کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 31
عیب دار شے کے عیب کو نہ دکھائے۔اس کی حقیقت حال واضح نہ کرے اور مشتری کو اندھیرے میں رکھے بلکہ اسے صحیح وسلامت بتاکر فروخت کردے۔"اس کی دو صورتیں ہیں: 1۔ کسی شے کے عیب نقص کرچھپا کربیچنا۔ 2۔ کسی چیز کو ایسے انداز میں بنا سنوار کرفروخت کرنا کہ اس کی قیمت زیادہ ملے۔ تدلیس حرام ہے۔شریعت اسلامیہ نے مشتری کو تدلیس کی صورت میں خریدا ہوا مال واپس کرنے کا اختیار دیا ہے کیونکہ مشتری نے شے کو بائع کے بیان کے مطابق صحیح سمجھ کر پوری قیمت کے ساتھ خریدا تھا۔اگر اسے حقیقت حال کابروقت علم ہوجاتا تو وہ اس قدر قیمت ادا نہ کرنا۔ تدلیس کی ایک صورت یہ ہے کہ بکری ،گائے یا اونٹنی کا دودھ تھنوں میں جمع کرکے فروخت کرنا تاکہ مشتری یہ سمجھے کہ یہ جانور ہمیشہ زیادہ دودھ دیتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدُ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْتَلِبَهَا إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعَ تَمْرٍ”. "اونٹ اور بکری کا دودھ بند نہ کرو اگر کوئی اسے خرید لیتا ہے تو اسے دوہنے کے بعد اختیار ہے چاہے تو اسے اپنے پاس رکھے اور چاہے تو واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔" تدلیس کی ایک صورت یہ ہے کہ عیب دار گھر کی بناوٹ وسجاوٹ کرکے مشتری یا کرائے دار کو دھوکا دینا۔اس طرح مشتری کو دھوکا دینے کے لیے پرانی گاڑیوں کو رنگ روغن کرکے فروخت کے لیے رکھنا کہ غیر مستعمل معلوم ہوں۔ان کے علاوہ تدلیس کی اور بھی بہت سی صورتیں ہیں۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سچائی سے کام لے اور حقیقت کو واضح کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " البَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا،فَإِنْ صَدَّقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَّبَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " "خریدوفروخت کرنے والے دونوں آدمیوں کو جدا ہونے سے پہلے تک (سودا فسخ کرنے کا) اختیار ہے۔ اگر سچ کہیں گے اور (حقیقت حال) بیان کریں گے تو ان کی بیع میں برکت ہوگی اور اگر جھوٹ بولیں گے اور(حقیقت کو) چھپائیں گے تو ان کی بیع میں برکت ختم کردی جائے گی۔"