کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 305
طلاق کی مشروعیت میں حکمت ظاہر و باہر ہے۔ یہ دین اسلام کے محاسن اور خوبیوں میں سے ایک ہے کیونکہ طلاق بوقت ضرورت نکاح میں پیدا ہونے والی مشکلات کا حل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ " "پھر یا تو اچھے طریقےسے روکنا یا عمدگی سے چھوڑدینا ہے۔" نیز فرمایا: " وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيمًا " ’’اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کردے گا، اللہ وسعت والا، حکمت والا ہے۔‘‘  اگر نکاح کو قائم رکھنے میں مصلحت نہ ہویا خاوند کے ساتھ رہنے میں بیوی کا نقصان ہو رہا ہو یا زوجین میں سے ایک دینی اور اخلاقی اعتبار سے نہایت کمزور ہو تو اس صورت میں طلاق دینا مشکل سے نکلنے کا حل اور بہترین طریقہ ہے۔ بہت سے معاشرے مشکلات سے اس لیے دو چار ہیں کہ وہ طلاق سے روکتے ہیں ۔اسی وجہ سے وہ تباہی و بربادی ،خودکشی اور خاندانی بگاڑ جیسی مشکلات کا شکار ہیں۔ دین اسلام نے طلاق کو مباح قراردیا ہے اور اس کے لیے ایسے قواعد و ضوابط وضع کیے ہیں جن کی بدولت ایسے مصالح کا حصول اور مفاسد کا خاتمہ یقینی ہے جو جلد یا بدیر حاصل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم پر اپنا فضل واحسان فرمایا۔ طلاق دینے کا مجاز خاوند ہے جو صاحب اختیار اور صاحب عقل ہو یا وہ شخص جسے یہ اپنا وکیل بنادے تو وہ طلاق دے سکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ" ’’ طلاق اسی کی طرف سے ہے جس نے عورت سے نکاح کیا ہے۔‘‘ جس شخص کی عقل زائل ہو چکی ہو اور اس بارے میں معذور ہو ،مثلاً: دیوانہ، بے ہوش ،سویا ہوایا کسی مرض کی وجہ سے اس کاشعور ختم ہو گیا ہو، مثلاً:برسام کا مرض یا جسے نشہ آور شے پینے پر مجبور کیا گیا ہو یا جس نے دواکی خاطر بھنگ پی (اور عقل جاتی رہی) تو اگر یہ لوگ درج بالا اسباب کی وجہ سے طلاق کا لفظ بیوی سے کہیں گے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ" ’’غیر عاقل کے علاوہ ہر ایک کی طلاق جائز (درست) ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ احکام کا دارومدار عقل پر ہے۔ واللہ اعلم۔