کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 303
کہتے ہیں جب وہ جہاں چاہے چرے۔ اور شرعی معنی" نکاح کی گرہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر کھول دینے"کے ہیں۔ طلاق احوال و ظروف کے مختلف ہونے کے لحاظ سے کبھی مباح ،کبھی مکروہ ،کبھی مستحب ،کسی وقت واجب اور کسی وقت حرام ہوتی ہے۔ اس پر پانچوں احکام لاگوہوتے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے: 1۔ بیوی کا اخلاق برا ہو جو خاوند کے لیے نقصان کا باعث ہو، نیز نکاح قائم رکھنے سے مقصد نکاح حاصل نہ ہو رہا ہو تو شوہر کے لیے طلاق دینا مباح ہے۔ 2۔ زوجین کے حالات درست ہوں ،طلاق دینے کی کوئی ضرورت و وجہ نہ ہو تو طلاق دینا مکروہ ہے۔ بعض ائمہ کے نزدیک ایسی صورت میں طلاق دینا حرام ہے۔ حدیث میں ہے: "أَبْغَضُ الْحَلالِ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلاقُ " "اللہ عزوجل کے ہاں حلال اشیاء میں سے سب سے زیادہ ناپسندشے طلاق ہے۔" اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کو حلال کہا ہے، باوجود اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ اس حالت میں طلاق مباح ہونے کے باوجود مکروہ ہے۔ وجہ کراہت یہ ہے کہ طلاق کے سبب نکاح جو معاشرتی مصالح و فوائد پر مشتمل تھا ،ختم ہو گیا۔ 3۔ جب طلاق دینے کی ضرورت ہو اور نکاح قائم رکھنے سے بیوی کو نقصان ہو رہا ہو، مثلاً: زوجین کے درمیان نزاع واختلاف پیدا ہو چکا ہو۔ عورت خاوند کو پسند نہ کرے تو اس صورت حال میں نکاح کو قائم رکھنا بیوی کے حق میں نقصان دہ ہے، لہٰذا اسے طلاق دینا مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ " "نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔" 4۔ اگر عورت دینی اعتبار سے کمزور ہو، مثلاً :نماز کی تارک ہو یا نماز بلاوجہ اپنے وقت سے تاخیر سے ادا کرنے کی عادی ہو، سمجھانے سے نہ سمجھے یا اپنی عزت کی حفاظت نہ کرے تو درست بات یہی ہے کہ ایسی صورت میں اسے طلاق دینا واجب ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"جب بیوی زانیہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی کو نکاح میں رکھنا جائز نہیں ورنہ اس صورت میں اسے اپنے ہاں رکھنے والا شخص دیوث ہے۔"