کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 301
"اور انھیں اس لیے روک نہ رکھو کہ جو(مہر )تم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ لے لو۔" یعنی انھیں تکلیف نہ دو کہ وہ بعض یا سارا حق مہر واپس کردیں یا اپنا کوئی حق چھوڑ دیں البتہ اگر عورت کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو جائے تو خاوند اپنا مہر واپس لینے کی خاطر ایسا کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ "’’ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں۔‘‘ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی نقطہ نظر ہے۔ اسباب کے وقوع پذیر ہونے پر خلع کے جواز کی دلیل کتاب اللہ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع ہے۔ قرآن مجید میں ہے: "فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ" ’’اگر تمھیں ڈر ہوکہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے، اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دلیل، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی سے متعلق وہ روایت ہے جو صحیح بخاری میں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا:"اے اللہ کے رسول!میں اپنے خاوند ثابت بن قیس میں کوئی دینی اور اخلاقی امور میں عیب نہیں نکالتی، البتہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں مسلمان ہو کر خاوند کی ناقدری کروں اور گناہ گار بنوں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً" "کیا تم اس کا باغ (جو اس نے مہر میں دیا تھا)واپس کرو گی؟اس نے کہا:جی ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاوند کو فرمایا کہ باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کر دو۔" باقی رہا اجماع تو علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے:" ہمیں نہیں علم کہ کسی نے خلع کے جواز کی مخالفت کی ہو ۔سوائے "مزنی رحمۃ اللہ علیہ "کے ۔ ان کاخیال ہے کہ خلع کے جواز والی آیت اللہ کے فرمان : "وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا " "اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ بھر مال دے رکھا ہو تو بھی