کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 30
قیمت بڑھانے کے لیے"بولی" نہ دو۔" نیز اس میں مشتری کو دھوکا دینا ہوتا ہے جو منع ہے۔ کسی چیز کی قیمت زیادہ وصول کرنے کے لیے بائع کاجھوٹ موٹ یہ کہنا کہ اسے فلاں چیز کی اتنی قیمت ملتی ہے یا میں نے اتنی قیمت کےساتھ یہ سامان خریدا ہے یا ایک چیز کی قیمت پانچ روپے ہے تو گاہک کو کہے کہ میں اسے دس روپے کی بیچ رہا ہوں تاکہ وہ دس روپے کے قریب قریب خرید لے۔یہ سب کام حرام ہیں۔(اور ایسی صورت میں بھی سودا واپس کرنے کا اختیار ہے۔) 3۔ کسی پر اعتبار کرتے ہوئے معاملہ کرے اور وہ اسے دھوکا دے۔امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"حدیث شریف میں ہے: "غَبْنُ الْمُسْتَرْسِلِ رِبًا " "ناواقف سے دغا کے ذریعے سے جو مال کمایا وہ سود کی طرح حرام ہے۔"جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کو قیمت کا علم نہیں اور نہ قیمت کم کرانے کے لیے بائع سے اچھی طرح بات چیت کرسکتا ہے بلکہ وہ مخلص اور سادہ لوح ہونے کی وجہ سے بائع کی بات کو سچ سمجھ لیتا ہے۔اس صورت میں اگر مشتری کوزیادہ نقصان ہوتو بیع کو قائم رکھنے یاردکرنے کا اسے اختیار ہے۔" مسلمانوں کے بازاروں اور منڈیوں میں بعض لوگ یہ چال چلتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنا مال فروخت کرنے کے لیے بازار میں لاتا ہے تو بازار والے اتفاق کرلیتے ہیں کہ اس کے مال کی کوئی قیمت نہ لگائے ،نیز وہ خفیہ طور پر ایک شخص کو بھاؤ کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگادیتے ہیں۔جب وہ شخص تھک ہارکر محسوس کرتا ہے کہ کوئی بھی اسے اس(تعاقب کرنے والے) شخص سے زیادہ مال کی قیمت نہیں دے رہا یا کوئی اس کا مال خرید نہیں رہا تو وہ مجبور ہوکر سستے داموں اپنا سامان فروخت کرجاتا ہے۔اس کے جانے کے بعد تعاقب کرنے والے خریدار کے نفع میں باقی دوکاندار بھی شریک ہوجاتے ہیں۔یہ سراسر دھوکا،فراڈ،ظلم اور حرام کام ہے۔اگر بائع کو اس کا علم ہوجائے تو اسے ایسی بیع میں اختیار ہے،یعنی وہ ا پنا فروخت شدہ مال واپس لے سکتا ہے ۔ جو لوگ اس قسم کا دھوکا کرتے ہیں انھیں چاہیے کہ ایسی حرکت کرنا چھوڑدیں اور توبہ کریں۔جس شخص کو اس کا علم ہو اس پر لازم ہے کہ ایسا کام کرنے والے پر ناراضی کا اظہار کرے اور ذمے دار لوگوں تک اس کی شکایت کرے تاکہ وہ انھیں اس سے باز کریں۔ اختیار تدلیس:تدلیس کے معنی"کسی کو اندھیرے میں رکھنا" ہیں۔بیع میں تدلیس کامطلب ہے کہ"بائع کسی