کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 299
خلع کے احکام خلع یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو اس کے مطالبے کے سبب مخصوص الفاظ کے ذریعے سے الگ کردے۔ خلع کے لغوی معنی ہیں:"الگ کرنا اور اتار دینا"چونکہ عورت اپنی ذات کو لباس کی طرح خاوند سے الگ کر لیتی ہے، اس لیے اسے"خلع" کہا جاتا ہے۔ واضح رہے زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے بمنزلہ لباس کے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ" "وہ (بیویاں) تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔" یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ نکاح مرد اور عورت کو باہم جوڑتا ہے اور اچھے طریقے سے زندگی گزارنے کا سبب ہے(اور یہ محبت کی بنیاد ہے)جس سے ایک کنبے کی تشکیل ہوتی ہے اور ایک نئی نسل پروان چڑھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً " "اور(یہ بھی)اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔" اگر نکاح کے بعد درج بالا مقاصد حاصل نہ ہوں اور باہمی محبت پیدا نہ ہو یا محبت و پیار قائم نہ رہے یا خاوند کی جانب سے محبت والفت کا اظہار نہ ہو۔ زوجین کی زندگی کے لمحات برے طریقے سے گزرتے ہوں اور اس کی اصلاح اور علاج بھی نہ ہو سکے تو خاوند کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو اچھے طریقے سے چھوڑدے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ" ’’پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔‘‘ ایک اورفرمان درج ذیل ہے: "وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيمًا" ’’اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کردے گا، اللہ وسعت والا ،حکمت والا ہے۔‘‘  اگر خاوند کو اس سے محبت ہو لیکن بیوی کے دل میں خاوند کی محبت نہ ہو۔ وہ خاوند کی کسی اخلاقی کمزوری سے نالاں