کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 273
اور اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے،لہذا صاحب اختیار کے مطالبہ کرنے پر قاضی نکاح کو فسخ قراردے گا یا اسے اجازت دے گا کہ وہ نکاح کو فسخ کردے۔ (2)۔اگر مجامعت سے پہلے ہی نکاح فسخ ہوگیا تو عورت کو مہر میں سے کچھ نہ ملے گا کیونکہ اگر فسخ اس(عورت) کی طرف سے ہوا ہے تو یہ جدائی بھی اسی کی طرف سے آئی ہے اور اگر مرد نے نکاح فسخ کیا ہے تو عورت اپنا عیب چھپانے کے باعث خود اس فسخ کا سبب بنی ہے۔ (3)۔اگر فسخ مجامعت کے بعد ہواتو عورت کو مقرر مہر ملے گا کیونکہ وہ عقد نکاح سے واجب ہوچکا تھا تو مجامعت سے برقراررہے گا ساقط نہ ہوگا۔ (4)۔نابالغ لڑکی،دیوانی عورت یالونڈی کا نکاح اس شخص سے کرناجائز نہیں جس میں اس قسم کا عیب موجود ہو جس کی بنا پر نکاح فسخ کیا جاسکتا ہو کیونکہ ان مذکورہ عورتوں کےسرپرستوں کو چاہیے تھاکہ ہر صورت ان کی مصلحت اور منفعت کو ملحوظ رکھیں۔اگرانھیں عیب کاعلم نہ ہو تو جب علم ہو ان کانکاح فسخ کردیں تاکہ عورتوں کو ان سے ضرر نہ پہنچے۔ (5)۔اگر کوئی عمر رسیدہ عقل مند عورت کسی نامرد شخص کو بطور شوہر پسند کرلے تو اس کا ولی رکاوٹ پیدا نہ کرے کیونکہ وطی عورت کاحق ہے کسی دوسرے شخص کا نہیں۔ (6)۔اگرعورت کسی مجنون،کوڑھ یاپھلبہری والے سے شادی کرنے پر رضا مند ہوتو ولی اسے روک دے کیونکہ آگےچل کر اولاد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اس سے عورت کے خاندان کو اذیت پہنچے گی۔ کفار کے نکاح کابیان کفار سے مراد اہل کتاب ،مجوس،بت پرست وغیرہ لوگ ہیں۔اس باب میں اس نکاح پر بات کرنا مقصود ہے جس کو ان کے مسلمان ہوجانے کی صورت میں صحیح تسلیم کیا جائے گا یا اگر وہ کفر کی حالت میں مسلمان قاضی سے رجوع کریں تو ان کانکاح قائم رکھا جائے گا۔ کفار کے نکاح کا حکم صحت ودرستی ،وقوع طلاق ،ظہار،ایلاء وجوب نفقہ اور باری کی تقسیم کے اعتبار سے مسلمانوں کے نکاح ہی کی طرح ہے۔ (7)۔جن عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے حرام ہے ۔انھی سے نکاح کرنا کفار کے لیے بھی حرام ہے۔کافر خاوند اور بیوی کے نکاح کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں عورت کی نسبت اس کے کافر شوہر کی