کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 270
نہیں،لہذا باپ یا ولی کو چاہیے کہ عورت کے نکاح میں اپنی غرض کے بجائے عورت کے مفاد کو سامنے ر کھے ورنہ اس کا حق ولایت ساقط ہوجائے گا۔جب ولی کی غرض فرج کا فرج کے ساتھ تبادلہ کرنا ہوتو وہ جس عورت کا ولی بن کر نکاح کررہاہے اس کے مفاد کے بجائے اپنی مصلحت کو مقدم رکھے گا۔اور وہ اس آدمی کی طرح ہوگا جس نے صرف اپنے لیے مال دیکھ کر نکاح کیا نہ کہ عورت کی مصلحت ومنفعت کا خیال کیا۔اور یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں۔اسی طرح اگر کسی نے نکاح شغار میں حق مہر محض حیلے کے طور پر مقرر کیا تو پھر بھی نکاح جائز نہ ہوگا، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی بھی یہی رائے ہے کیونکہ مقصود وٹہ سٹہ ہوتا ہے۔" اگر ہر ایک عورت کا حق مہر الگ الگ مقرر ہواور کوئی حیلہ بھی نہ ہو،نیز دونوں عورتیں اپنے اپنے نکاح پر رضا مند ہوں تو نکاح درست ہے کیونکہ اب نقصان وضرر کا پہلو نہیں رہا۔ (2)۔نکاح حلالہ:کوئی شخص کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کرے کہ جب وہ اسے(صحبت کے بعد) پہلے شوہر کے لیے حلال کردےگا تو اسے طلاق دے دےگا تاکہ پہلے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح دوبارہ کردیا جائے یابوقت نکاح یا نکاح سے پہلے شرط عائد نہ کرے لیکن ایسی نیت ضروررکھے،بہرحال یہ نکاح باطل ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ ؟ قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللّٰهِ . قَالَ : هُوَ الْمُحَلِّلُ ، لَعَنَ اللّٰهُ الْمُحَلِّلَ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ" "کیا میں تمھیں مانگ کرلیے ہوئے سانڈ کی خبر نہ دوں؟صحابہ نے عرض کی:ضرور بتائیے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ حلالہ کرنے والا مرد ہے۔اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جارہا ہے دونوں پر لعنت کی ہے۔" (3)۔عقد نکاح کو مستقبل کی شرط کے ساتھ مشروط کرنا،مثلاً: کوئی کہے:"میں تجھ سے اس عورت کانکاح اس وقت کروں گا جب مہینہ شروع ہوگا۔"یا"اس(عورت) کی ماں رضا مند ہوگی۔"اس طرح کا نکاح منعقد نہ ہوگا کیونکہ نکاح عقد معاوضہ ہے جسے کسی شرط سے مشروط قراردینا صحیح نہیں۔ اسی طرح ایک مدت مقرر تک کسی کو بیوی بنانا جائز نہیں،مثلاً: کوئی کہے:میں نے ایک رات کے لیے فلاں عورت کو تیری بیوی بنادیا،چنانچہ اگلے دن اسے طلاق دے دینا یا کوئی شخص کسی عورت کا ایک مہینے یا ایک سال تک کے لیے نکاح کرے تو یہ مقرر وقت تک کا نکاح باطل ہے کیونکہ یہی"نکاح متعہ" ہے۔