کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 264
وہ عورتیں جو وقتی طور پرحرام ہیں۔ان کی دوانواع ہیں:اولاً:وہ عورتیں جو ایک شخص کے نکاح میں جمع ہونے کی وجہ سے حرام ہیں۔ان کی دو صورتیں ہیں: 1۔ کسی شخص کادو بہنوں کو بیک وقت اپنی بیویاں بنا کر رکھنا حرام ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ " "اورتمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا(بھی تم پرحرام ہے۔)" اور اسی طرح بیک وقت بیوی اور اس کی بھانجی سے یا بیوی اور اس کی بھتیجی سے شادی کرنا حرام ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلاَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" "تم عورت(تمہاری بیوی) اور اس کی پھوپھی یا عورت اور اس کی خالہ کو بیک وقت نکاح میں نہ رکھو۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس فرمان کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: "إنكم إذا فعلتم ذلك، قطعتم أرحامهن" "اگرتم ایسا کروگے تو قطع رحمی کے مرتکب ہوجاؤگے۔" اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سوکنوں کے درمیان غیرت اور حسد ہوتا ہے توجب ان میں پہلے ہی سے قرابت ہوگی تو سوکن ہونے کے بعد نتیجہ قطع رحمی کی صورت میں برآمد ہوگا۔البتہ اگر ایک کو طلاق دے دی جائے اور اس کی عدت گزر جائے یا ایک فوت ہوجائے تو اس کی بہن یاپھوپھی یا خالہ سے نکاح کرنا درست ہے کیونکہ اب ممانعت کا سبب باقی نہیں رہا۔ (9)۔ایک وقت میں چار سےزیادہ بیویاں رکھناحرام ہے۔ارشادالٰہی ہے: "فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ" "اور عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو،دو دو،تین تین،چار چار سے۔" ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص مسلمان ہوا جس کی چار سے زیادہ بیویاں تھیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ان میں سے چار بیویاں رکھ لو اور باقی کو چھوڑدو۔ ثانیاً:ایسی عورتیں جن سے کسی عارضی سبب کی بنا پر نکاح کرناحرام ہے جو ایک مدت کے بعد ختم ہوجائےگا،اس کی