کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 258
ایک اور مقام پر فرمان الٰہی ہے: " وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ " ’’اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے۔‘‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نکاح کا انعقاد انھی الفاظ میں منحصر ہے، الغرض ان دوالفاظ کے علاوہ اور الفاظ سے بھی انعقاد نکاح ہو جاتا ہے۔ گونگے شخص کا قبول نکاح تحریر یا کسی قابل فہم اشارے سے ہو گا۔ ایجاب و قبول حاصل ہو جانے سے نکاح منعقد ہو جائے گا اگرچہ اس نے کلمہ قبول و ایجاب ازراہ مذاق کہا ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ : النِّكَاحُ ، وَالطَّلَاقُ ، وَالرَّجْعَةُ " "تین چیز یں پکی کرنے سے بھی پکی ہیں اور ازراہ مذاق بھی پکی ہیں ،یعنی نکاح ،طلاق اور رجوع کرنا۔" نکاح کی درستی کے لیے چار شرائط ہیں: (1)۔عقد نکاح کے وقت خاوند اور بیوی کا تعین ہوا ور یہ کہنا کافی نہیں کہ "میں نے اپنی بیٹی تیرے نکاح میں دے دی۔" جبکہ اس کی متعدد بیٹیاں غیر شادی شدہ ہوں، یا وہ کہے:" میں نے اس کی شادی تیرے بیٹے سے کر دی ۔ "جبکہ اس کے متعدد بیٹے ہوں۔ الغرض جس کا نکاح کیا جارہا ہو اس کی تعیین ضروری ہے جو اشارہ کر کے ہو یا اس کا نام لیا جائے یا اس کے امتیازی اوصاف ذکر کیے جائیں۔ (2)۔زوجین میں سے ہر ایک باہمی نکاح پر رضا مند ہو، اس میں کسی ایک کو مجبور کرنا درست نہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا تُنكحُ الأيِّمُ حتى تُستأمرَ، ولا تُنكحُ البِكرُ حتى تُستأذنَ" "شوہر دیدہ کا نکاح اس کی رائے معلوم کیے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری سے اجازت لیے بغیر نکاح نہ کیا جائے۔" البتہ اگر کوئی عمر کے اعتبار سے چھوٹا (نابالغ بچہ) ہو یا کم عقل تو اس کا سر پرست اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتا ہے۔