کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 257
سَيئاتِ أعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ، فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ، فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اس کے بعد قرآن مجید کی ان آیات کی تلاوت کی جائے جو یہ ہیں: "يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ" "يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا" "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا"  عقد نکاح کے تین ارکان ہیں: (1)۔خاوند بیوی بننے والے دونوں ایسے افراد ہوں کہ ان کے باہمی نکاح میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو،مثلاً: عورت نسب، رضاعت یا عدت کے اعتبار سے ایسی نہ ہو جس سے نکاح کرنا اس مرد کے لیے حرام ہو یا مرد کافر اور عورت مسلمان ہو یا اور کوئی شرعی مانع ہو جن کا ذکر آگے چل کر ہم تفصیل سے کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ (2)۔عقد نکاح کا دوسرا رکن"ایجاب " ہے، یعنی عورت کا ولی یا جو اس کے قائم مقام ہے وہ عورت کے بننے والے شوہر سے کہے:"میں نے فلاں نامی عورت کا نکاح تجھ سے کیا۔" یا" اسے تیری بیوی بنا دیا۔" (3)۔ تیسرا رکن قبول کرنا ہے ،یعنی شوہر یا جو اس کا وکیل ہے، وہ کہے :"میں نے یہ نکاح قبول کیا۔" یا" اسےبیوی بنالیا۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد رشید ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ ’’نکاح کا انعقاد ہر اس لفظ کے ساتھ ہو سکتا ہےجو نکاح پر دلالت کرے۔‘‘البتہ وہ لوگ جو نکاح کے انعقاد کو انکاح یا تزویج کے ساتھ خاص کرتے ہیں، وہ یہ کہتے کہ یہ دونوں وہ الفاظ ہیں جو قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا" "پھر جب زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کر لی تو ہم نے اس کی تزویج تیرے ساتھ کر دی۔‘‘