کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 25
اس کا فائدہ مشتری کو ہوتا ہے۔جب یہ شرط پوری کردی جائے گی تو بیع نافذ ہوگی۔اسی طرح اگر مشتری نے بیع کے وقت شے میں کوئی شرط لگادی،مثلاً:فلاں میعار کی ہو یا فلان کمپنی کی بنی ہو یا فلاں ماڈل ہو تو اس شرط میں کوئی حرج نہیں کیونکہ لوگوں کی پسند اورطلب مختلف ہوتی ہے جو ان کا حق ہے۔اگر وہ شے طے کردہ شرط کے مطابق نہ ہوگی تو مشتری کو اختیار ہے کہ اس بیع کو فسخ قراردے یا مطلوبہ چیز کی قیمت اور موجود چیز کی قیمت میں جو فرق ہے اس کو ملحوظ رکھ کر قیمت ادا کرے۔ 2۔ بیع میں جائز شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک فروخت شدہ شے میں ایسی شرط لگادے جس میں اس کا ذاتی فائدہ ہو،مثلاً:مکان بیچنے والا ایک مقرر مدت تک بیچے ہوئے گھر میں رہائش رکھنے کی شرط عائد کردے یا جانور یا گاڑی بیچنے والا ایک مقرر جگہ تک اس پر بیٹھ کر جانے کی شرط مقرر کردے،جیسے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ"انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اونٹ بیچا اور مدینہ منورہ تک اس پر بیٹھنے کی شرط لگادی۔" یہ حدیث شریف وضاحت کرتی ہے کہ کسی جانور کو فروخت کرتے وقت اس پر مقررہ جگہ تک سواری کرنے کی شرط لگانا جائز ہے۔آپ اس پر ایسے ہی دیگر مسائل بھی قیاس کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر مشتری کی طرف سے کوئی شرط عائد ہوجاتی ہے تو بائع اس کی پاسداری کرے،مثلاً:کوئی لکڑی کا سودا کرتا ہے اورساتھ ہی اسے کسی جگہ تک پہنچانے کی شرط لگادیتا ہے یا کوئی کپڑا خریدتے وقت اس کی سلائی کی شرط مقرر کردیتا ہے تو جائز ہے۔ 3۔ شرائط فاسدہ: اس کی متعدد انواع ہیں۔ان میں چند ایک یہ ہیں: 1۔ بیع میں ایسی فاسد شرط لگانا جو سرےسے بیع کو باطل قرار دے دے،مثلاً: کوئی شخص بیع کرتے وقت ایک اور بیع یا عقد کی شرط لگا دے جیسے کوئی کہے:" میں تجھے فلاں چیز اس شرط پر بیچتا ہوں کہ تم مجھے اپنا گھر کرائے پر دو۔"یا کہے:"میں تجھے یہ چیز اس شرط پر بیچتا ہوں کہ تم مجھے اپنے فلاں کام یا اپنے گھر میں شریک کرو۔" یا کہے:"میں تجھے یہ سامان اس شرط پر فروخت کرتا ہوں کہ تم مجھے اتنی رقم بطور قرض دو۔" یہ تمام شرائط فاسدہ ہیں جو بیع کو سرے ہی سے باطل کر دیتی ہیں کیونکہ حدیث میں ہے: