کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 247
نکاح کے احکام نکاح کا موضوع نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ فقہائے کرام نے اپنی تصنیفات میں نکاح کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس کے مقاصد اور اثرات کو خوب واضح فرمایا ہے کیونکہ کتاب وسنت اور اجماع میں اس کی مشروعیت نمایاں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ" "عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو دو،دو، تین تین اور چار چار سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر کیا جن سے نکاح کرنا حرام ہے تو آخر میں فرمایا: "وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ" "اوران عورتوں کے سوااور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو۔ برے کام سے بچنے کے لیے نہ کہ شہوت رانی کرنے کے لیے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح پر توجہ اور رغبت دلاتے ہوئے فرمایا: "يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ" "اے نوجوانوں کی جماعت !جو شخص تم میں سے قوت پاتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ اس سے نگاہ نیچی اور شرمگاہ محفوظ ہو جاتی ہے۔" نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الأُمَمَ يوم القيامة" "تم بہت بچے جننے والیوں اور بہت محبت کرنے والیوں سے نکاح کرو۔ بے شک میں تمہاری کثرت ہی کی وجہ سے روز قیامت دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔"