کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 245
آئے، مثلاً: قتل عمد، شبہ عمد یا قتل خطایا جو قتل ان صورتوں کے مشابہ ہو، مثلاً: قتل سبب، بچے ، مجنون یا سوئے ہوئے شخص کے ہاتھوں قتل ہو جانا ۔ اور جو قتل ایسا نہیں وہ مانع بھی نہیں ہو گا، مثلاً: قصاص کے طور پر یا حد لگا کر کسی کو قتل کیا جائے یا کوئی اپنا دفاع کرتے ہوئے کسی کو قتل کر دے یا قاتل عادل ہو اور مقتول باغی یا کسی تادیب یا علاج کے دوران میں کوئی مر گیا۔ علمائے احناف کا بھی یہی مسلک ہے، البتہ انھوں نے قتل سبب کو مانع میراث قرار نہیں دیا۔ مثلاً: کسی نے کنواں کھودا یا راستے میں پتھر رکھ دیا تو کنویں میں گر کر یا پتھر کی ٹھوکر لگنے سے اس کا مورث قتل ہوا۔ اسی طرح علمائے احناف کے نزدیک وہ قتل مانع ارث نہیں جو بچے اور مجنون سے صادر ہو۔ مالکیہ کے ہاں قتل کی دو حالتیں ہیں: (1)۔مورث کو عمداً وظلماً قتل کیا گیا۔ اس صورت میں قاتل مورث کے مال اور دیت کا وارث نہ ہوگا۔ (2)۔ قتل خطا کی صورت میں قاتل اپنے مورث کے مال کا وارث ہوگا، البتہ اس کی دیت کا وارث نہ ہو گا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے مقتول کے مال پر قبضہ کرنے کی خاطر جلدی نہیں کی۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ دیت میں وارث نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دیت کی ادائیگی اسی پر لازم تھی۔ ہمارے نزدیک حنابلہ اور احناف کا مسلک درست ہے کیونکہ جس فعل میں قاتل کا قصور ہے اور اس پر ضمان لازم آتا ہے اس میں اسے حق میراث سے محروم رکھنا درست ہے، البتہ قتل کی جن صورتوں میں ضمان نہیں ان میں قاتل کو معذور سمجھا جائے گا اور اس کی مسئولیت نہ ہوگی، لہٰذا وہ قتل مانع میراث بھی نہ ہو گا۔ اگر شوافع کے قول پر عمل کرتے ہوئے ہر قاتل کو میراث سے محروم قراردیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حدیں نافذ نہیں کی جائیں گی اور حقدار کو حق نہیں ملے گا ،یعنی جب قصاص لینے والے کو معلوم ہوگا کہ قصاص لینے کہ وجہ سے وہ میراث سے محروم ہو جائے گا تو وہ قصاص نہیں لے گا۔ اس تفصیل کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان :"لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ " کے عموم کو اس صورت کے ساتھ خاص کیا جائے گا جب قتل ناحق ہوگا جس کی وجہ سے اسے قصاص یادیت دینی پڑے اور ضمان لازم آئے۔