کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 238
آیت میں جو تخصیص کا دعوی کرتا ہے اس کے ذمے دلیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ " "جس کاکوئی (صاحب فرض اور عصبہ )وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے۔" وجہ دلالت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس میت کا وارث صاحب فرض یا عصبہ نہ ہو اس کے ماموں کو ،جو ذوی الاحارم میں سے ہے، وارث قراردیا ہے، لہٰذا حدیث شریف کا اطلاق ماموں کی طرح دوسرے ذوی الاحارم پر بھی ہوگا۔ درج بالا دلائل ان حضرات کے ہیں جو ذوی الارحام کو وارث بنانے کے قائل ہیں۔ یہی رائے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تھی، ان میں سیدنا عمر اور علی رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں۔ حنابلہ اور حنفیہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ مذہب شافعیہ کی جدید رائے یہی ہے بشرطیکہ بیت المال کا انتظام نہ ہو۔ ذوی الاحارم کو وارث بنانے کے قائلین نے آپس میں طریقہ تقسیم میں اختلاف کیا ہے، چنانچہ اس کے بارے میں اہل علم کے مشہور درج ذیل دو قول ہیں: 1۔ پہلا قول بمنزلہ گرداننے کا ہے، اس قول والوں کے نزدیک ذوی الاحارم خود بلا واسطہ وارث نہیں ہوتے ۔ یہ حضرات ذوی الاحارم کو ان اصحاب الفرائض اور عصبات کے قائم مقام بناتے ہیں جن کے واسطے سے ان کی میت سے رشتے داری اور قرابت ہے۔ اور پھر انھی والا حصہ دیتے ہیں ،مثلاً ان کے نزدیک بیٹیوں کی اولاد اور پوتیوں کی اولاد اپنی ماؤں کے قائم مقام ہوگی، اور اخیافی چچا اور پھوپھیاں باپ کے قائم مقام ہوں گی۔ اسی طرح ماموں، خالائیں اور نانا ماں کے قائم مقام ہوں گے اور بھتیجیاں اور بھائیوں کی پوتیاں اپنے باپوں کے قائم مقام ہوں گی۔علی ھذا القیاس۔ 2۔ ذوی الاحارم میں ترکہ کی تقسیم عصبات کی طرح ہوگی جس کی بنیاد الاقرب فالا قرب ہے ۔ واللہ اعلم۔ مطلقہ عورت کی میراث کا بیان یہ امر واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقد زوجیت کو وارث بننے کا ایک سبب قراردیا ہے۔ارشاد الٰہی ہے: