کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 234
کا ہے۔ ان میں حضرت ابو بکر صدیق ،زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ ائمہ ثلاثہ امام ابو حنیفہ ،مالک اور شافعی رحمۃ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ اور یہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے بھی مطابق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ورثہ پانے کی شرائط میں ہے کہ مورث کی وفات کے بعد وارث زندہ ہو اور یہ شرط یہاں یقینی نہیں بلکہ مشکوک ہے اور شک سے حق وراثت ثابت نہیں ہوتا۔ نیز جنگ یمامہ، جنگ صفین اور جنگ حرہ کے مقتولوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا گیا تھا۔ ہر ایک دوسرے کا وارث ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمر بن خطاب اور علی رضی اللہ عنہما اس کے قائل ہیں۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ظاہر مذہب بھی ہے۔ اس قول کی بنیاد یہ ہے کہ ہر ایک کا زندہ ہو نا یقین سے ثابت ہے جو اصل ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسے دوسرے کی موت کے بعد زندہ سمجھا جائے۔ نیز سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں شام میں طاعون کی وبا پھیل گئی تو لوگ یکے بعد دیگر ے مرنے لگے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ایک دوسرے کا وارث بنایا جائے۔ ان کی توریث کے لیے یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ ورثاء اس قسم کی مشتبہ اموات میں اختلاف نہ کریں کہ ہر کوئی دعوی کرے کہ ہمارا مورث بعد میں مرا ہے جبکہ ان میں سے دلیل کوئی بھی پیش نہ کرے اختلاف کی صورت میں ورثاء قسمیں اٹھائیں گے لیکن ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔ اس قول کے مطابق تقسیم وراثت اس طرح ہو گی کہ ہر میت کا وہ مال تقسیم ہو گا جو اس کا ذاتی قدیم مال ہے نہ کہ وہ مال جو اسے اس شخص کے ترکہ سے ملا ہے جو اس کے ساتھ فوت ہوا تھا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس اجتماعی موت میں ہر ایک کو اولاً یہ فرض کیا جائے گا کہ وہ پہلے فوت ہوا تھا ،لہٰذا اس کا ذاتی ترکہ مال قدیم اس کے زندہ ورثاء میں اور جو اس کے ساتھ فوت ہوئے تھے ان میں تقسیم کیا جائےگا۔ باقی رہا وہ مال جو اسے اپنے ساتھ فوت ہونے والوں کی طرف سے ملا ہے وہ صرف زندہ ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا تاکہ ہر ایک اپنے ہی مال کا خود وارث نہ ہو۔پھر اس عمل کو دہرایا جائے گا کہ کسی شخص کو یہ فرض کیا جائے گویا وہ بعد میں فوت ہوااور اسے دوسری میت کا بحیثیت وارث اسی طرح حصہ ملے گا جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس مسئلے میں راجح قول پہلا قول ہےکہ بیک وقت فوت ہونے والے زیادہ افراد باہم ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے کیونکہ احتمال اور شک سے حق وراثت ثابت نہیں ہوتا جبکہ اس واقعے میں کسی کی موت کو مقدم اور کسی کی موت کو مؤخر قرار دینا صرف لاعلمی کی بنیاد پر ہےجو کالعدم ہے، نیز کسی زندہ شخص کو میراث اس لیے ملتی ہے تاکہ وہ مورث کے بعد اس سے فائدہ اٹھالے اور یہ چیز یہاں مفقود ہے۔ علاوہ ازیں انھیں باہم وارث قراردینے میں