کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 232
کیونکہ یہ ایسی مدت ہے جس میں مسافروں ،تاجروں کا آنا جانا بار بار ہوتا ہے ۔اگر اس میں کوئی خبر نہ مل سکی تو غالب گمان یہی ہوگا کہ وہ زندہ نہیں ہے۔ مفقود کے بارے میں گمان غالب ہو کہ وہ زندہ اور سلامت ہے، مثلاً: کوئی تجارت ،سیاحت یا طلب علم کی خاطر سفر کے لیے نکلا ،پھر اس کے بارے میں کوئی خبرنہ ہوسکی ۔ ایسے شخص کا مدت ولادت سے لے کر نوے سال کی عمر تک کا انتظار کیا جائے گا کیونکہ عموماً اس قدر عمر کے بعد آدمی زندہ نہیں رہتا۔ ہمارے نزدیک پہلا قول راجح اور معتبر ہے کہ مفقود کی مدت انتظار کی تحدید حاکم کے اجتہاد پر ہے کیونکہ شہر، اشخاص اور احوال کے مختلف ہونے کی بنا پر صورت حال بھی مختلف ہو جاتی ہے۔ نیز آج کے دور میں اطلاعات اور مواصلات کے ذرائع ووسائل عام اور تیز ہیں حتی کہ ساراجہاں ایک شہر کی مانند چھوٹا ساہوگیا ہےاور اب پرانے دور والے حالات نہیں رہے۔ اگر مفقود کی مدت انتظار کے دوران میں اس کا کوئی مورث فوت ہو جائے تو ؟ 1۔ اگر مفقود کے سوااور کوئی وارث نہیں تو مدت انتظار مکمل ہونے تک یا صورت حال واضح ہونے تک تمام ترکہ محفوظ کر لیا جائے ۔ 2۔ اگر مفقود کے ساتھ میت کے دیگر ورثاء بھی ہوں تو ترکہ کے طریقہ تقسیم کے بارے میں علمائےکرام کے مختلف اقوال ہیں۔ ان میں راجح قول (جس پر علماء کی کثرت متفق ہے) یہ ہے کہ دیگر شریک ورثاء کو کم حصہ دیا جائے گا جو یقینی ہے اور باقی ترکہ محفوظ ہو گا۔ اس میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ مسئلے کی تصحیح مفقود کو زندہ سمجھ کر ہوگی، پھر دوسری مرتبہ مسئلے کی تصحیح اس کو میت سمجھ کر ہو گی تو جو دونوں مسئلوں میں وارث ہے لیکن ایک میں اس کا حصہ کم ہے اور دوسرے میں زیادہ تو اسے کم حصہ دیا جائے گا اور جس کو دو مسئلوں میں مساوی حصہ ملتا ہے اسے اس کا کامل حصہ ملے گا اور جسے صرف ایک مسئلے میں حصہ ملتا ہے اور دوسرے میں نہیں ملتا تو اسے کچھ نہ ملے گا۔ باقی ترکہ صورت حال واضح ہونے تک محفوظ رہے گا۔ سابقہ صورت توایسی تھی جس میں مفقود خود وارث بن رہا تھا۔ اگر مفقود خود مورث ہو تو جب اس کی مدت انتظار گزر جائے اور کوئی خبر نہ مل سکے تو قاضی اس کے بارے میں موت کا فیصلہ صادر کرے گا ،پھر اس کا ذاتی مال ہو یا