کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 231
مفقود کی میراث کا بیان مفقود کے لغوی معنی" معدوم یا گمشدہ شے" کے ہیں۔"فقدت الشيء"کے معنی ہیں:" میں نے شے تلاش کی لیکن نہ مل سکی۔" یہاں مفقود سے مراد وہ شخص ہے جو لاپتہ ہو،یعنی ایسا غائب ہو کہ اس کا اتاپتا نہ ہو کہ زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے۔ اس کی گمشدگی کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔مثلاً: کوئی سفر پر نکلایا لڑائی کے لیے گیا یا کشتی ٹوٹ گئی یا کفار نے اسے قیدی بنا لیا اور معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کہاں اور کدھر چلا گیا۔ گمشدگی کے دوران میں مفقود شخص کے بارے میں ترددہو تا ہے کہ آیا وہ زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سے ہر صورت سے متعلق مخصوص احکام ہیں، مثلاً: اس کی بیوی کے احکام ،خود مفقود کا وارث ہونا ،دوسروں کا اس کے ساتھ شریک ہونا ،مفقود سے ورثہ پانا وغیرہ ۔ ان احتمالی صورتوں میں سے کسی ایک کو دوسری پر ترجیح بھی نہیں دے سکتے ،لہٰذا ضرورت اس امرکی ہے کہ ایک مدت کا تعین کیا جائے جس میں اس کی اصل صورت حال معلوم کی جاسکے۔ جب وہ مدت بیت جائے تو اسے مفقود کی موت پر دلیل قرار دیا جائے۔ اس ضرورت کے پیش نظر علمائے کرام نے ایک مدت کے مقرر ہونے پر اتفاق کیا ہے لیکن اس کی مقدار میں اختلاف ہے۔ اس کے بارے میں دو قول ہیں: 1۔ تعیین مدت میں حاکم کا اجتہاد معتبر ہے کیونکہ مفقود کی زندگی اصل ہے اور اس اصل کو کسی ایسی صورت کے ساتھ ہی چھوڑا جائے گا جو یقینی ہو یا یقین کے حکم میں ہو۔الغرض فیصلہ کن امر حاکم کا اجتہاد ہے خواہ اس کی سلامتی کی جانب غالب ہو یا ہلاکت کی۔ وہ نوے برس کی عمر سے پہلے گم ہوا ہو یا بعد میں۔ اس کا انتظار ہو گا حتی کہ اس کی موت پر کوئی دلیل مل جائے یا اس قدرمدت گزر جائے کہ اس میں گمان غالب ہو کہ اب اس کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ یہ جمہور کا قول ہے۔ 2۔ اس قول میں قدرے تفصیل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مفقود کی دو حالتیں ہیں: ایسی صورت ہو کہ جس میں مفقود کی ہلاکت کا پہلو غالب ہو، مثلاً :ہلاکت کی جگہ میں گم ہو گیا ہو یا برسر پیکار صفوں میں گم ہو گیا یا کشتی ڈوب گئی جس کے بعض افراد ہلاک ہو گئے اور بعض سلامت رہے یا کوئی اپنے گھر شہر میں رہتے ہوئے نماز کے لیے نکلا لیکن واپس نہ آسکا ۔ ایسے شخص کا انتظار گمشدگی کے وقت سے لے کر چار سال تک کیا جائے گا۔