کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 23
"لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ" "کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔" سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: "اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کاسامان فروخت کرتے وقت"دلال" نہ بنے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ‏"‏ "تم لوگوں کو تجارت کے لیے آزاد چھوڑدو۔اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔" جس طرح یہ جائز نہیں کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے سامان کی فروخت میں"دلال" بنے، اسی طرح سامان کی خریداری میں بھی شہری کو دیہاتی کا دلال نہیں بننا چاہیے،البتہ کوئی دیہاتی کسی شہری کے مال میں دلال بنے تو اس کی ممانعت نہیں۔ ناجائز تجارت کی صورتوں میں ایک صورت بیع عیینہ بھی ہے۔اس کی صورت یہ ہےکہ ایک چیز کسی شخص کو ادھار بیچ دے،پھر مشتری سے ادائیگی کے ساتھ کم قیمت پر خرید لے،مثلاً:ایک گاڑی بیس ہزار درہم میں ادھار بیچ کراس سے پندرہ ہزاردرہم نقد میں خرید لے اور بیس ہزاردرہم طے شدہ مدت پوری ہونے پر واجب الادا ہوں۔یہ سوداحرام ہے کیونکہ یہ حصول سود کے لیے ایک حیلہ ہے،گویا کہ اس نے ادھار درہم نقد دراہم کے بدلے تفاضل (زیادتی) کے ساتھ بیچے۔سود لینے میں گاڑی کو ایک حیلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ ، وَتَرَكْتُمْ الْجِهَادَ ، سَلَّطَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا، لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ" "جب تم بیع عینہ کرنے لگ جاؤگے،بیلوں کی دُمیں پکڑ لوگے(زراعت میں مشغول ہوجاؤ گے)،کھیتی باڑی پر ر اضی ہوجاؤگے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت ورسوائی مسلط کردے گا اور اسے تم سے دور نہیں کرےگا حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔" نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: