کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 228
واضح رہے کہ کم ازکم مدت حمل چھ ماہ ہے، اس پر علماء کا اجماع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا" ’’اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔‘‘ نیز فرما ن الٰہی ہے: "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ " "مائیں اپنی اولاد کو دوسال کامل دودھ پلائیں۔" ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اگر تیس مہینوں سے مدت رضاعت کے دو سال، یعنی چوبیس ماہ نکال دیے جائیں تو باقی چھ ماہ ہی رہ جاتے ہیں جو حمل کی کم ازکم مدت ہو گی۔ (2) ۔مورث کی موت کے وقت سے لے کر زیادہ سے زیادہ مدت حمل گزرنے کے بعد وضع حمل ہو۔ اس حالت میں حمل وارث نہ ہوگا کیونکہ اس قدر مدت کے بعد وضع حمل اس امر کی دلیل ہے کہ مورث کی موت کے وقت اس کا وجودنہ تھا بلکہ مورث کی موت کے بعد حمل ٹھہراہے۔ زیادہ سے زیادہ مدت حمل کی تعیین کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں: 1۔ زیادہ سے زیادہ مدت حمل دو سال ہے جیسا کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے:" ماں کے رحم میں دو سال سے زیادہ عرصہ حمل نہیں رہتا۔ اس قسم کے قول کا تعلق اجتہاد سے نہیں ہوتا ،اس لیے یہ"مرفوع حدیث" یعنی فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم میں ہے۔ 2۔ زیادہ سے زیادہ مدت حمل چار سال ہے۔ 3۔ اکثر مدت حمل پانچ برس ہے۔ ہمارے ہاں راجح قول یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مدت حمل چار برس ہے کیونکہ قرآن وسنت میں تحدید کی کوئی دلیل نہیں، لہٰذا وقو ع پذیر واقعات کی طرف رجوع کریں گے۔ چنانچہ ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں کہ حمل ماں کے پیٹ میں چار سال تک ٹھہرارہا۔ (3)۔کم مدت حمل (چھ ماہ) کے بعد اور اکثر مدت حمل سے پہلے وضع حمل ہو۔ اس حالت میں اگر اس کا خاوند یا آقا موجود ہو جو اس سے وطی کرتا رہا ہو تو وہ حمل میت کا وارث نہ ہو گا کیونکہ مورث کی موت کے وقت حمل کا وجود غیر یقینی ہے۔ ممکن ہے کہ مورث کی موت کے بعد کی وطی سے حمل ٹھہراہو۔ اور اگر اس دوران میں اس سے وطی نہ ہوئی ہو، مثلاً: اس کا خاوند یا آقا نہ ہو یا اس سے غائب رہا ہو یا اس نے کسی عجز و امتناع کی وجہ سے وطی کرنا چھوڑ دیا ہو تو حمل وارث ہو گا کیونکہ میت سے اس کا وجود ثابت ہے۔