کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 227
حمل کی میراث کا بیان کبھی ورثاء کی فہرست میں حمل بھی شامل ہوتا ہے، البتہ اس کی حالت غیر یقینی ہوتی ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو گا یا مردہ ،ایک ہے یا ایک سے زیادہ، عورت ہے یا مرد۔ان مختلف احتمالات میں حکم بھی مختلف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام نے حمل کے مسائل کو اہتمام سے بیان کیا ہے اور کتب میراث میں حمل کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کیا ہے۔ پیٹ میں جو بچہ ہو ا سے "حمل " کہا جاتا ہے۔ جب"مورث" فوت ہو جائے اور اس کے ورثاء میں حمل شامل ہو تو کبھی وہ ہر اعتبار سے وارث ہوتا ہے اور کبھی ہر اعتبار سے محجوب کبھی بعض اعتبار سے وارث اور بعض اعتبار سے محجوب بشرطیکہ پیدائش کے وقت زندہ ہو۔ جو حمل بالا جماع وارث ہوتا ہے اس میں دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے: 1۔ مورث کی موت کے وقت رحم میں اس کا موجود ہونا، اگرچہ نطفہ ہی ہو۔ 2۔ ولادت کے وقت اس میں زندگی کی واضح علامات کا ہونا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وَرِثَ " "اگر بچہ چیخ مار کر رو دیا تو اسے وارث بنایا جائے گا۔" "استہلال" کے ایک معنی تو وہ ہیں جو ہم نے ترجمے میں ظاہر کیے ہیں ،البتہ بعض علماء کے نزدیک اس کے معنی ہیں کہ اس میں زندگی کی کوئی بھی علامت ہو۔ رونا ضروری نہیں، مثلاً:چھینک لینا یا حرکت کرنا وغیرہ۔ یہ ایسی صورتیں ہیں جن سے کسی میں زندگی کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔ یہ دوسری شرط ہے۔ باقی رہی پہلی شرط کہ"مورث" کی موت کے وقت حمل موجود ہو تو اس کا تحقق تب ہو گا جب حاملہ حمل کو مقرر مدت کے دوران جنے جو مختلف احوال کے مطابق کم ازم مدت بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ بھی۔ مورث کی وفات کے بعد وضع حمل کی تین حالتیں ممکن ہیں: (1)۔مورث کی موت کے وقت سے لے کر کم ازکم مدت کے دوران میں وضع حمل ہو۔ اس حالت میں حمل مطلقاً وراث ہو گا کیونکہ اس مدت میں وضع حمل اس امر کی دلیل ہے کہ مورث کی موت کے وقت رحم میں حمل موجود تھا۔