کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 226
معتبر ہوگا۔اگر ابتداء میں ایک آلے سے پیشاب کرتا رہا،پھر دونوں سے شروع ہوگیا تو پہلی کیفیت کا اعتبار ہوگا۔اگر پیشاب دونوں راستوں سے برابر نکلتاہے وقت اور مقدار میں بھی یکساں ہے تو اس کے بالغ ہونے تک دیگر علامات کے ظہور کا انتظار کیاجائے گا۔تب تک وہ خنثیٰ مشکل ہی متصور ہوگا۔ بلوغت کے وقت ظاہرہونے والی بعض علامات جومرد کے ساتھ خاص ہیں،مثلاً: مونچھوں کااگنا،داڑھی کا ظاہر ہونا اور ذکر سے منی کا خارج ہونا وغیرہ۔اگر ان میں سے کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہوجائے تو وہ مرد ہے جبکہ بعض علامات جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں،مثلاً:حیض کا آنا،حمل کا ظاہر ہونا اورپستانوں کا نمایاں ہونا۔اگر ان علامات میں سے کوئی ایک علامت بھی ظاہر ہوجائے تو وہ عورت ہے۔ اگرمردانہ یا زنانہ علامت میں سے کوئی علامت بھی ظاہر نہ ہوتو وہ خنثیٰ مشکل ہے جس میں کسی تبدیلی بدن کی کوئی امید نہیں تو اس کے ساتھ دیگرورثاء ہوں یانہ ہوں دونوں حالتوں میں تقسیم وراثت کے بارے میں علماء کی درج ذیل آراء ہیں: 1۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ خنثیٰ کو دونوں حصوں(مذکر ومؤنث) میں سے کم حصہ ملے گا اور دیگر ورثاء کو زیادہ اور اگروہ ایک اعتبار سے وارث ہو اوردوسرے اعتبار سے وارث نہ ہوتو وہ غیر وارث قرار پائے گا۔ 2۔ بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ اگر اس کی جسمانی حالت میں کسی تبدیلی کی امید ہوتو ایسے خنثیٰ مرجو(وضاحت کی امید ہو) کواور اس کے ساتھ شریک ورثاء کوکم حصہ دیا جائے گا اور باقی حصہ اس وقت تک محفوظ رہے گا جب تک اس کی جسمانی صورت حال واضح نہ ہوجائے یا ورثاء کسی مناسب صورت پر صلح کرلیں۔ 3۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ خنثیٰ مشکل کو مرد کانصف اورعورت کا نصف حصہ دیا جائے گا۔ جبکہ اس کے دونوں حصوں میں فرق ہو۔اگر صرف ایک اعتبار (مذکر یا مؤنث) سے وارث ہوتو اس اعتبار کا نصف حصہ ملے گا۔یہ حکم دونوں صورتوں میں ہے خنثیٰ کی صورت حال بدلنے کی امید ہو یا نہ ہو۔ 3۔ بعض علماء کا یہ مسلک ہے کہ اگرا س میں تبدیلی ظاہر ہونے کی امید ہوتو خنثیٰ اور اس کے ساتھ شریک ورثاء سب کو کم حصہ دیا جائے گا کیونکہ وہ حصہ یقینی ہے اور باقی مال صورت حال واضح ہونے تک محفوظ رہے گا۔اور اگر اس میں تبدیلی کی امید نہ ہوتو اسے مرد اور عورت دونوں کا نصف نصف حصہ دیا جائے گا بشرطیکہ وہ دونوں حالتوں میں وارث ہو۔اگر صرف ایک حالت(مرد یا عورت) میں وارث ہوتو وہ اس میں نصف کا مستحق ہے۔واللہ اعلم۔