کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 224
احتیاط کی بنیاد پر وراثت کی تقسیم میراث کے بارے میں پچھلے صفحات پر جو مسائل بیان کیے گئے ہیں ان کا تعلق ایسی صورتوں کے ساتھ ہے جن میں مورث(میت) کی موت یقینی اور واضح ہو۔اس طرح مورث کی موت کے وقت وارث کاوجود بھی یقینی ہو۔یہ تمام صورتیں واضح ہیں جن میں کسی قسم کا کوئی تردد اوراشکال نہیں۔ اب ان صورتوں کے احوال ذکر کرنامقصود ہے جن میں مورث کی موت یا مورث کی زندگی غیر یقینی اور غیر واضح ہو،چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مورث کی موت یاوارث کی زندگی کی صورت حال مشتبہ ہوتی ہے،مثلاً:پیٹ میں حمل کی صورت حال یا پانی میں ڈوبنے والے یا مکان ودیوار کے نیچے دب جانے والے افراد یا مفقود الخبر شخص کی صورت حال یا کسی وارث کے مرد یا عورت ہونےمیں تردد ہوجائے جیسا کہ خنثی مشکل کہ اس کے بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ یہ مرد ہے یا عورت،اسی طرح پیٹ میں موجود حمل کا واضح نہ ہونا۔ مذکورہ اشخاص کی صورت حال میں تردد کی بنا پر میں نے ذیل میں مستقل طور پر چند ابواب ذکر کیے ہیں تاکہ حقیقت حال اچھی طرح واضح ہوجائے۔ خنثیٰ مشکل کا بیان خنثيٰ كا كلمہ "انخناث" سے ماخوذ ہے جس کے معنی نرم ہونے،ٹوٹنے اور مڑجانے کے ہیں۔"خنث فم السقاء" تب کہا جاتاہے جب کوئی مشکیزے کا منہ توڑ کر اس سے پانی پیے۔ علم میراث کی اصطلاح میں خنثیٰ مشکل وہ ہے جس کا جسمانی معاملہ مشتبہ ہو،یعنی اس کا مردانہ عضو مخصوص بھی ہو اورزنانہ بھی یا سرے سے کوئی آلہ تناسل ہی نہ ہو نہ مؤنث والا اورنہ مذکر والا۔ خنثیٰ شخص بنوة اخوة عمومة اور ولاء کی جہات میں سے کسی جہت سے ہوسکتاہے کیونکہ ہر جہت میں اس کے مذکر یامؤنث ہونے کا امکان ہے،البتہ وہ ابوة(باپ،ماں،دادا اور دادی) کی جہت سے نہیں ہوسکتا۔اگرایسا ہوتواس کا جسمانی معاملہ مشتبہ نہ ہوا،یعنی خنثیٰ مشکل نہ رہا۔نیز یہ بھی ممکن نہیں کہ خنثیٰ مشکل خاوند یا بیوی ہوکیونکہ جب وہ خنثیٰ مشکل ہے تواس کی شادی کرنا درست نہیں۔