کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 220
جبکہ ان کی تعداد تین ہے۔یہ پورے پورے تقسیم نہیں ہوتے،لہذا تصحیح کرتے ہوئے تین کوچھ سے ضرب دی گئی تو حاصل ضرب اٹھارہ ہوئی جو تصحیح ثانی کہلائی۔خاوند کو پہلے تین ملے تھے اب تین سے ضرب دی تو اس کے نوسہام ہوگئے۔دادے کوایک ملا تھا تو اس کے تین جبکہ تینوں بھائیوں کے مجموعی سہام چھ ہوئے اس طرح ہر ایک کو دودو آگئے۔ حل: 2x3=6x3=18۔ خاوند:1۔3۔9۔ دادا۔1۔1۔3۔ 3بھائی۔۔۔ 2۔۔6/2۔ اس حالت میں دادے کو کل مال کا چھٹا دیا جائے یا باقی کا تہائی دونوں صورتوں میں یکساں حصہ ملتا ہے جو مقاسمت سے زیادہ ہے۔ ساتویں حالت: تینوں امور مقاسمت باقی مال کاتہائی اورکل مال کا چھٹا حصہ برابرہوں۔ مثال:خاوند،دادا اور دو بھائی۔اس صورت میں فرض حصہ نصف کے برابر ہوتاہے ،نیز بھائیوں کی تعداد دادے سے دوگنا ہوتی ہے۔ حل: 2x3=6 خاوند:1۔3۔ دادا:1بٹا3۔1۔ 2بھائی:2بٹا3۔ 2/1۔ اس حالت میں تینوں امور کے برابرہونے کی وجہ یہ ہے کہ خاوند کو نصف دینے کے بعدباقی نصف دادا اور دو بھائیوں میں تقسیم ہوتاہے۔اس میں ثلث الباقی،مقاسمت اور کل مال کا چھٹا حصہ سبھی امور برابر ہوتے ہیں لیکن ثلث الباقی بلاکسر حاصل نہیں ہوتا،لہذا اصل مسئلے کو ثلث کے مخرج،یعنی تین کو اصل مسئلہ دو سے ضرب دی جائےگی تو حاصل ضرب چھ ہوں گے۔خاوند کو پہلے ایک ملا تھا جب تین سے ضرب دی توتین سہام ہوئے۔باقی تین بچ گئے۔دادا کو ہر حال میں ایک سہم ملا جبکہ باقی دو دونوں بھائیوں میں تقسیم ہوں گے۔ہر ایک کو ایک ایک سہم ملےگا۔