کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 219
اس مثال میں چھٹا حصہ دینے کے بجائے مقاسمت اور ثلث باقی دینا دادے کے حق میں زیادہ بہتر ہے،نیز دونوں صورتوں میں حصہ یکساں ہے۔ پانچویں حالت: مقاسمت ہو یا کل مال کاچھٹا حصہ دادے کے لیے یہ دونوں ثلث باقی سے بہتر ہوں۔ مثال:خاوند ،دادی ،دادا اور بھائی۔اس صورت میں فرض حصہ دو تہائی کے برابر ہوتا ہے،نیز دادے کے ساتھ بھائی ایک ہی ہوتا ہے۔اس حالت میں مقاسمت اور کل مال کے چھٹے کے یکساں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ خاوند کو نصف اور دادی یانانی کو چھٹا حصہ دینے کے بعد دادا اور بھائی کے لیے دو سہام بچتے ہیں۔اب دادے کو مقاسمت سے دیں یا کل مال کا چھٹا حصہ دونوں صورتوں میں ایک ہی سہم ملتا ہے اسی طرح بھائی کے لیے بھی ایک ہی سہم ہے۔ حل: ٹوٹل:6۔ خاوند۔3۔ دادی۔1۔ دادا۔1۔ بھائی۔1۔ اس صورت میں دادے کو مقاسمت یا کل مال کا چھٹا دیں دونوں صورتوں میں یکساں ہے جو باقی کے تہائی سے زیادہ ہے۔ چھٹی حالت: کل مال کاچھٹا حصہ دیا جائے یا باقی کا تہائی دونوں اعتبار سے دادےکو یکساں اور مقاسمت سےزیادہ حصہ ملتا ہو۔ مثال:خاوند ،دادا اور تین بھائی۔اس صورت میں فرض حصہ نصف ملتا ہے،نیز بھائیوں کی تعداد دادے کے دوگنا سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔اس حالت میں کل مال کا چھٹا اور ثلث الباقی کے یکساں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ خاوند کو نصف دینے کے بعد باقی نصف دادے اور تین بھائیوں میں تقسیم کیاجائے گا۔اس صورت میں کل مال کا چھٹا اورثلث الباقی دونوں برابر ہوں گے،البتہ باقی مال میں سے ثلث الباقی بلاکسر حاصل نہیں ہوتا،لہذا ثلث کے مخرج ،یعنی تین کو اصل مسئلہ ،یعنی دو سے ضرب دی۔حاصل ضرب چھ ہوئے۔اسی عدد سے مسئلے کی تصحیح ہوگی۔خاوند کو اصل مسئلے سے ایک سہم ملا تھا جب اسے تین سے ضرب دی تو خاوند کو تین سہام ملے ۔تین سہام باقی بچ گئے۔دادے کو ایک مل گیا جوثلث الباقی ہے اور یہی کل مال کا چھٹا حصہ بھی ہے۔بھائیوں کو دو سہام ملے