کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 211
تقسیم ہوگی؟ تو انھوں نے فرمایا:بیٹی اور بہن کو نصف نصف ترکہ ملےگا( اور پوتی محروم ہوگی)اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ لیں ،وہ میری موافقت کریں گے۔جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری کے فتوے سے آگاہ کیا گیا تو فرمانے لگے: اگر میں بھی ابو موسیٰ اشعری کی موافقت کروں تو میں گمراہ ہوں گااورہدایت یافتہ نہ رہوں گا۔میں اس کے بارے میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صادر فرمایا تھا کہ بیٹی کو نصف دے دو اور پوتی کو چھٹا حصہ دے دو،دو ثلث مکمل ہوجائیں گے اور جو بچ جائے وہ بہن دے دو۔" (3)۔عصبہ بنفسہ میں سے اگر کوئی اکیلا ہوگا تو وہ سارا مال لے گا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ " "اور وہ بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کی اولاد نہ ہو۔" اس آیت میں بھائی کو بہن کے سارے مال کاوارث قراردیاہے اور یہ حکم تب ہے جب وہ اکیلا ہو۔ (4)۔اگر اس کے ساتھ کوئی صاحب فرض ہوتو اصحاب الفرائض کو دے کر بچا ہوامال عصبہ کو ملے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ" "اہل فرائض کوان کے مقررہ حصے دو، پھر جو باقی بچے وہ میت کے قریب ترین مرد کو دو۔" ياد رہے اگر اصحاب الفرائض کو دے کر مال باقی کچھ نہ بچے تو عصبات محروم ہوجاتے ہیں۔ (5)۔عصبات کی پانچ جہات ہیں: " بنـوة "یعنی بیٹا،پوتا ،پر پوتا وغیرہ۔ "ابوة"یعنی باپ،دادا،پردادا وغیرہ۔ "اخوة"یعنی سگابھائی ،علاتی بھائی،سگے بھائی کا بیٹا،علاتی بھائی کا بیٹا۔ "عمومة"یعنی سگا چچا،علاتی چچا،سگے چچے کا بیٹا،علاتی چچے کا بیٹا۔ "ولاء"یعنی آزاد کرنے کے سبب آزاد کرنے والا شخص عتیق کاعصبہ ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" "ولاء صرف آزاد کرنے والے کوملے گی ۔"