کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 210
نیچے کے درجے کا بیٹا۔دونوں قسموں کی دلیل میں ارشاد ہے: "يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ " "اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ " یہ آیت صلبی اولاد اور پوتوں کو شامل ہے۔ 3۔ سگی بہن،جب اپنے سگے بھائی کے ساتھ ہو۔ 4۔ علاتی بہن،جب اپنے علاتی بھائی کے ساتھ ہو۔ دونوں کی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ" ’’اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لیےمثل دو عورتوں کے حصہ ہے۔‘‘  یہ آیت سگے بھائیوں اور علاتی(پدری)بھائیوں کو شامل ہے۔ الغرض یہ چار مرد:بیٹا،پوتا،سگا بھائی اور علاتی بھائی ان کے ساتھ ان کی بہنیں ان کےساتھ عصبہ بننے کی وجہ سے میراث لیتی ہیں۔ان کے علاوہ جومرد ہیں ان کی بہنیں ان کے ساتھ عصبہ نہیں بنتیں،مثلاً:بھتیجا ،چچا اورچچے کا بیٹا۔ (2)۔عصبہ مع غیرہ:یہ دو عورتیں ہیں:1۔سگی بہن۔ 2۔اور علاتی بہن۔ 1۔ سگی بہن جب میت کی بیٹی یاپوتی کے ساتھ ترکہ لیتے وقت شریک ہو،اسی طرح علاتی بہن جب میت کی بیٹی یا پوتی کے ساتھ ترکہ لیتے وقت شریک ہو بشرطیکہ سگی بہن یا سگا بھائی نہ ہو۔اس کی دلیل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا وہ فیصلہ ہے جو صحیح بخاری میں مذکور ہے اور یہی جمہورصحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والےعلماء کا فتویٰ ہے کہ سگی بہنیں یا علاتی بہنیں بیٹی یا پوتی کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتی ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے: "" سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ، فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَللأُخْتِ النِّصْفُ، وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ المُهْتَدِينَ، أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلبِنْتِ النِّصْفُ، ولابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ تَكمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، ومَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ " "سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال کیا کہ بیٹی،پوتی اور بہن ان تینوں میں میراث کس طرح