کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 206
1۔علاتی بہن ایک سگی بہن کے ساتھ ترکہ میں شریک ہوجونصف لے رہی ہو۔اگر سگی بہنیں ایک سے زیادہ ہوں تو علاتی بہن محروم ہوجاتی ہے کیونکہ دو تہائی حصہ انھی پر مکمل ہوچکاہے۔ 2۔ میت کی علاتی بہن کے ساتھ علاتی بھائی نہ ہو جو اسے عصبہ بنادے۔اگر علاتی بہن کے ساتھ اس کا بھائی موجود ہوتو سگی بہن کو اس کا حصہ نصف ترکہ دے کر باقی نصف ترکہ ان میں(فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ) کے مطابق تقسیم ہوگا۔واللہ اعلم۔ بیٹیوں کی موجودگی میں بہنوں کا حصہ اور اخیافی بھائی بہن کی میراث کا بیان جب میت کی ایک یا زیادہ بیٹیوں کے ساتھ ایک یا زیادہ سگی یاپدری بہنیں موجود ہوں توبیٹیاں اپنا مقررہ حصہ دو تہائی(3/2) لیں گی اورجو باقی بچے گا وہ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اورتابعین رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک سگی بہنوں کو اگر وہ نہ ہوں تو علاتی(پدری) بہنوں کو بیٹیوں کے ساتھ عصبہ کی حیثیت سے ملے گا۔(فقہائے کرام اسے عصبہ مع الغیر کہتے ہیں۔) اس کی دلیل صحیح بخاری کی روایت ہے: " سُئِلَ أَبُو مُوسَى عَنِ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ، فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ، وَللأُخْتِ النِّصْفُ، وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَيُتَابِعُنِي، فَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَأُخْبِرَ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ المُهْتَدِينَ، أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلبِنْتِ النِّصْفُ، ولابْنَةِ الابْنِ السُّدُسُ تَكمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، ومَا بَقِيَ فَلِلأُخْتِ " "سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ بیٹی،پوتی اور بہن تینوں میں ترکہ تقسیم کیسے ہوگا؟انھوں نے فرمایا:بیٹی اور بہن دونوں کو نصف نصف ترکہ ملےگا اور پوتی محروم ہوگی،پھر سائل سے کہا: تم یہی مسئلہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھو،نیز انھیں میرے فتوے سے بھی آگاہ کرنا،اُمید ہے وہ میری تائید فرمائیں گے،چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فتویٰ سن کر فرمایا:اگر میں بھی یہی فتویٰ دوں تو گمراہ ہوں گا ہدایت یافتہ نہ رہوں گا۔میں تو وہی فیصلہ دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا کہ بیٹی کا حصہ نصف اور پوتی کا حصہ چھٹا