کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 205
"إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ " "اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کی اولاد نہ ہو،پھر اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے مال کا دو تہائی ملے گا۔" یاد رہے ان کا دو تہائی حصہ تب ہے جب پانچ شرائط موجود ہوں۔چارشرائط تو وہی ہیں جو سگی بہنوں کے بیان میں گزرچکی ہیں اورپانچویں شرط یہ ہے کہ میت کے سگے بھائی یاسگی بہنیں موجود نہ ہوں۔ اگر سگا بھائی یا سگی بہنیں ایک ہوں یا زیادہ ہوں تو علاتی بہنیں دوتہائی کی وارث نہیں ہوں گی۔اگر ایک سگا بھائی یادوسگی بہنیں ہوں تو یہ محروم ہوجاتی ہیں الا یہ کہ علاتی بہنوں کے ساتھ علاتی بھائی ہو تو وہ عصبہ بن کر حصہ لیں گی(جوایک تہائی ہوگا)۔اگر سگی بہن ایک ہوتو وہ نصف ترکہ لےگی اگر اس کے ساتھ ایک یا زیادہ علاتی بہنیں ہوں تو ان کا حصہ چھٹا ہوگا تاکہ دو تہائی مکمل ہو۔ (7)۔اگر ایک بیٹی ہو اور اس کے ساتھ ایک یا زیادہ تعداد میں پوتیاں ہوں تو بیٹی کو نصف اور پوتیوں کو(دوتہائی مکمل کرنے کے لیے) چھٹا حصہ ملے گا۔سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہی فیصلہ دیاتھا اورفرمایا:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیاکہ بیٹی کے لیے نصف ہے اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے، دوثلث مکمل کرتے ہوئے اور جو بچ جائے وہ بہن کا ہے۔" اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بیٹیاں ایک سے زائد ہوں تو ان کا حصہ دوتہائی ہی بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ " "اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ " اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک بیٹی کا نصف اور پوتی کا چھٹا حصہ مجموعی طور پر دو تہائی بنتا ہے،البتہ اس میں دو شرطیں ہیں: 1۔ میت کی پوتی کے ساتھ اس کے درجے کا پوتا نہ ہو۔ 2۔ اقرب اور اعلیٰ اولاد ،یعنی بیٹا نہ ہو۔ (8)۔علاتی بہن بھی ایک سگی بہن کی موجودگی میں(دوتہائی کی تکمیل کے لیے) چھٹا حصہ لیتی ہے۔اس پر علماء کااجماع ہے، نیز علاتی بہن کو پوتی پر قیاس کیا گیا ہے،البتہ علاتی بہنیں چھٹا حصہ تب لیں گی جب دو شرطیں موجود ہوں: