کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 202
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث زیر بحث آیت کی تفسیر ہے،نیز یہ واقعہ اس آیت کی شان نزول ہے۔باقی رہا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ان کے ہم نواؤں کا مسلک مذکور کہ دو بیٹیوں کا حصہ دوتہائی نہیں تو اس کا ایک جواب یہ ہے کہ کلمہ (فَوْقَ اثْنَتَيْنِ) بعض کلمات کی بعض کے ساتھ مطابقت کے پیش نظر ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان: "يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ"  میں تینوں کلمات،یعنی:(أَوْلَادِ) ،(كُنَّ)اور(نِسَاءً)جمع استعمال ہوئے ہیں،اس لیے یہاں (فَوْقَ اثْنَتَيْنِ) ہی مناسب کلمات تھے جو استعمال کیے جاتے۔ ایک جواب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے مساوی رکھا ہے۔جب ایک لڑکا دوتہائی لے لیتا ہے تو ایک لڑکی کے لیے ایک تہائی باقی بچتا ہے۔تو اس سے واضح ہوگیا کہ دو لڑکیوں کا حصہ دو تہائی ہے کیونکہ اگر ایک لڑکی بھائی کے ساتھ مل کر ایک تہائی لیتی ہے تو ایک بہن کے ساتھ ایک تہائی حصہ زیادہ لائق ہے۔اس میں ادنیٰ کے ساتھ اعلیٰ پر تنبیہ ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکی کی میراث نصاً ذکر کی تو دو لڑکیوں کی میراث تنبیہاً ذکر کردی۔کلمہ (فَوْقَ اثْنَتَيْنِ) سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ بیٹیاں دو سے زیادہ بھی ہوجائیں تو ان کا حصہ نہیں بڑھتا۔ (2)۔دوپوتیاں دو بیٹیوں کی طرح دو تہائی کی مستحق ہیں۔وہ دو سگی بہنیں ہوں(یاسوتیلی بہنیں) یا ایک درجے کی دو چچازاد بہنیں۔ان کو حقیقی بیٹیوں پر قیاس کرتے ہوئے دو تہائی وراثت کا حصہ ملے گا کیونکہ پوتی بھی حقیقی(صلبی) بیٹی کی طرح ہے لیکن اس میں تین شرطیں ہیں: 1۔ پوتیاں دو یا زیادہ ہوں۔ 2۔ کوئی عاصب نہ ہو،یعنی پوتا جو اس کا بھائی ہو یا ان کے چچا کا بیٹا جوان کے درجے کا ہو۔ 3۔ان سےاعلیٰ درجےکی اولادنہ ہوجومیت کےقریب ہو،مثلاً:بیٹا،بیٹی،پوتا۔واللہ اعلم عینی(سگی) اور علاتی(پدری) بہنوں کی میراث کابیان اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء کے آخر میں عینی اور علاتی بہنوں کا حصہ وضاحت سے یوں بیان فرمایا ہے: "يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ