کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 19
"إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ الْخَمْرَ، وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ" اسی طرح نجس تیل اور بدبودار اشیاء کی بیع ناجائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " إِنَّ اللّٰهَ إِذَا حَرَّمَ شَيْئًا حَرَّمَ ثَمَنَهُ " "اللہ تعالیٰ نے جب کسی چیز کو حرام کیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قراردیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مردار کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہے جس سے کشتیوں کو چکنا کیا جاتا ہے ،چمڑوں کو نرم کیا جاتا ہے اوراس (چربی) کے ساتھ گھروں میں چراغ جلائے جاتے ہیں؟تو آپ نے جواب دیا: "لَا، هُوَ حَرَامٌ" "اسے استعمال کرنے کی اجازت نہیں یہ حرام ہے ۔" 2۔ فروخت ہونے والی چیز ایسی صورت میں ہو کہ بائع اسے مشتری کے حوالے کرسکے ورنہ وہ معدوم شے کے حکم میں ہوگی جس کی بیع جائز نہیں،مثلاً :بھاگے ہوئے غلام یا بے قابو اونٹ وغیرہ کی بیع کرنا۔فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کی بیع کرنا،اسی طرح غصب شدہ شے غصب کرنے والے کے سوا کسی اور کے ہاتھ فروخت کرنا بھی جائز نہیں (کیونکہ اس صورت میں خریدار اس چیز کو حاصل نہیں کرسکتا)،البتہ جو شخص اس سے واپس لینے کی طاقت رکھتا ہو اس کے ہاتھ بیچنا جائز ہے۔ 3۔ صحت بیع کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ فروخت ہونے والی شے اور اس کی قیمت لین دین کرنے والوں کے ہاں واضح اور طے شدہ ہوکیونکہ اس کے بارے میں لا علمی دھوکا ہے جو ممنوع ہے۔جس چیز کو دیکھا ہی نہیں یادیکھ تو لیا ہے لیکن اس کے اچھے یا بُرے ہونے کا علم نہیں تو اسے خریدنا جائز نہیں،مثلاً :مادہ کے پیٹ میں حمل کی بیع یا جانوروں کے تھنوں میں دودھ کی بیع جائز نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بیع ملامسہ یعنی جس کپڑے کو تمہارا ہاتھ لگ گیا تجھے اس کی اس قدر قیمت دیناہوگی اور بیع منابذۃ ،یعنی تو نے جو کپڑا میری طرف پھینک دیا وہ اتنی قیمت کا ہوگا ،جائز نہیں۔سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: " نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا ہے۔"