کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 188
میں عورتوں کو ان کے جائز حق سے زیادہ دے دیا گیا ہے، حالانکہ دین اسلام نے عورت سے عدل و انصاف کیا ہے اور اسے یہ مقام عزت بخشا کہ اسے جائز حق دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کفار و منافقین اور ملحدین کو تباہ و برباد کرے جن کے عزائم وارادے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیے ہیں: "يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللّٰهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّٰهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ" ’’وہ (کافر) چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر ناخوش رہیں۔‘‘  وراثت کے اسباب اور ورثاء کا بیان شرعاً وراثت یہ ہے کہ میت کا مال شریعت کے اصولوں کے مطابق زندہ شخص یا اشخاص کی طرف منتقل ہو جائے۔اسباب میراث درج ذیل ہیں: (1)۔رحم،یعنی قرابت نسبی ،وہ لوگ جو قرابت داری کی وجہ سے وارث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللّٰهِ" ’’اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ اولیٰ ہیں اللہ کے حکم میں۔‘‘  اصحاب قرابت میت سے قریب کا رشتہ رکھتے ہوں یا دورکا وہ وارث ہوں گے بشرطیکہ اس کے آگے کوئی رکاوٹ بننے والا نہ ہو۔ یعنی قریب کے رشتے دار کی موجود گی میں دور کا رشتے دار وارث نہ ہو گا۔ رشتے دار ورثاء تین قسم کے ہیں:(1)اصول(2)فروع (3)اور حواشی۔ اصول سے مراد ہے: باپ، دادا، پر دادا اوپر تک۔ فروع سے مراد ہے: اپنی صلبی اولاد اور بیٹیوں کی اولاد نیچے تک ۔ حواشی کا مطلب ہے: بہن ،بھائی اور بھائی کے بیٹے نیچے تک اور چچے (خواہ سگے ہوں یا باپ دادا کے) اوپر تک اور ان کے بیٹے نیچے تک۔ (2)۔نکاح: کسی مرد اور عورت کا شرعی طریقے سے عقد زوجیت میں منسلک ہونا اگرچہ خلوت کا موقع میسر نہ ہوا ہوکیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد عام ہے: