کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 181
جسے عرف میں مال کہا جائے کیونکہ لغت عرب میں اور شریعت میں شے کی کوئی مقرر حد نہیں، لہٰذا موصیٰ لہ کو کم ازکم اس قدر مال دیا جائے گا کہ وہ مالدار ہو جائے ۔ورنہ مقصد حاصل نہ ہوگا۔ واللہ اعلم۔ وصی کے احکام "وصی"یا موصیٰ الیہ"سے مراد وہ شخص ہے جس پر میت نے اپنی وصیت کے نفاذ میں ان امور کی ذمے داری ڈالی ہو جن کو وہ خود اپنی زندگی میں انجام دیتا تھا اور ان میں نیابت بھی ہو سکتی تھی کیونکہ"موصیٰ الیہ" وصیت کے نفاذ میں موصیٰ (وصیت کرنے والے ) کا نائب ہو تا ہے۔ وصیت کرنے والے کی نیابت قبول کرنا "موصیٰ الیہ" کے لیے مستحب ہے اور اجرو ثواب کا باعث ہے لیکن اس ذمے داری کو وہ شخص قبول کرے جس میں وصیت کو نافذ کرنے کی قدرت و طاقت ہو، نیز اسے اپنی امانت داری پر اعتماد ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى" ’’نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی امداد کرو۔‘‘ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "وَاللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ " ’’اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مددمیں مشغول رہتا ہے۔‘‘  علاوہ ازیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنی وصیت کے نفاذ میں نائب بنایا تھا۔اسی طرح سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر اپنی وصیت کے اجرا کی ذمہ داری ڈالی تھی۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو وصیت کے نفاذ میں ذمےدار بنایا تھا۔ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بعد اپنی بڑی اولاد کو اس کا ذمے دار قرار دیا۔ جو شخص موصیٰ کی وصیت پر عمل درآمد نہیں کروا سکتا یا اسے اپنی امانت داری پر اعتماد نہیں ،اسے یہ ذمے داری ہر گزقبول نہیں کرنی چاہیے۔ وصی کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ کسی کافر پر ایسی اہم ذمہ داری ڈالنا درست نہیں ہے۔