کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 174
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:" اجرو ثواب کے اعتبار سے سب سے افضل مال وہ ہے جو کوئی اپنی اولاد کے لیے چھوڑ جائے۔ جس سے وہ لوگوں سے مستغنی ہو جائیں۔"سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا:"تم جو معمولی مال چھوڑ کر جا رہے ہو تو اسے اپنے ورثاء کے لیے رہنے دینا۔" علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ اگر کوئی موصی وصیت کے ذریعے سے ورثاء کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو یہ کام حرام اور گناہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "غَيْرَ مُضَارٍّ " "جبکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔" حدیث میں ہے: "إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ وَالْمَرْأَةُ بِطَاعَةِ اللّٰهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ " "بے شک ایک مرد اور عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال عمل کرتے رہتے ہیں ،پھر انھیں موت کا وقت آتا ہے تو وصیت کے ذریعے سے ورثاء کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ان پر جہنم کی آگ لازم ہو جاتی ہے۔" سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: " الْإِضْرَارُ فِي الْوَصِيَّةِ مِنَ الْكَبَائِرِ " "وصیت کے ذریعے سے کسی وارث کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔"  امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اللہ تعالیٰ کے فرمان "غَيْرَ مُضَارٍّ " کا مطلب یہ ہے کہ موصی ایسی وصیت کر جائے جس میں ورثاء کا کسی بھی طریقے سے نقصان نہ ہو، مثلاً: کسی ایسی چیز کا اقرار کرے جو درحقیقت اس کے ذمے نہ تھی یا وصیت کا مقصد محض ورثاء کو نقصان پہنچانا ہو یا کسی وارث کے حق میں مطلق وصیت کر جائے یا غیر وارث کے حق میں تہائی مال سے زائد کی وصیت کرے جس پر ورثاء رضا مند نہ ہوں۔یہ تمام صورتیں باطل اور مردود ہیں جو کسی صورت میں نافذ نہ ہوں گی، وہ ثلث کی وصیت ہو یا اس سے کم کی ہو ۔واللہ اعلم۔